ٹاول مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ٹی ایم اے) نے جرمن کوآپریشن ادارے ایس ای کیو یو اے اور جرمن امپورٹرز ایسوسی ایشن وی فائیوآئی کے تعاون سے گرین پاکستان پراجیکٹ (جی پی پی) کے تحت تکنیکی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔
29 ستمبر کو ٹی ایم اے ہاؤس کراچی میں منعقدہ ورکشاپ کا عنوان ٹیکسٹائل مینوفیکچرنگ میں واٹر فوٹ پرنٹ کو کم کرنے کے لیے عملی تجاویز تھا۔
ورکشاپ میں 50 سے زائد صنعتکاروں، کاروباری افراد، سسٹین ایبلٹی مینیجرز اور کمپلائنس ماہرین نے شرکت کی ۔
وی ایف آئی کے ماہر ڈاکٹر اچم اے آر فیہن نے پانی کے استعمال میں نمایاں فرق کو اجاگر کیا اور اسے روکنے کے لیے موثر حکمت عملی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
شرکاء کو پانی کے استعمال کی پیمائش کرنے، بچت کے پروگراموں کو انتظامی نظام میں شامل کرنے اور پائیداری اور آپریشنل تاثیر کو بہتر بنانے والے جدید طریقوں کو نافذ کرنے کی تربیت دی گئی۔
جی پی پی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مائیکل آرریٹز نے عالمی سسٹین ایبلٹی فریم ورکز جیسے جرمن سپلائی چین ایکٹ ( ایل کے ایس جی)،آئی یو کارپوریٹ سسٹین ایبلٹی رپورٹنگ ڈائریکٹو (سی ایس آر ڈی) اور ای ایس جی معیارات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات کو بین الاقوامی منڈیوں میں برقرار رکھنے کے لیے ان معیارات کی پاسداری ناگزیر ہے۔
ٹی ایم اے کے چیئرمین اطہر باری نے کہا کہ پاکستان گزشتہ دہائیوں میں میٹھے پانی کے 80 فیصد ذخائر کھو چکا ہے اور صنعت کو چاہیے کہ وہ حکومتی مداخلت کا انتظار کیے بغیر خود اقدامات کرے۔ انہوں نے گرین پاکستان پراجیکٹ کو بروقت اور اہم قرار دیا۔
ورکشاپ کے اختتام پر ٹی ایم اے نے عہد کیا کہ وہ پائیداری کو فروغ دینے، عالمی شراکت داری بڑھانے، پانی کی ری سائیکلنگ، ماحول دوست کیمیکل کے استعمال اور جدید پانی بچانے والی مشینری کے فروغ کے لیے کام کرتا رہے گا۔
























Comments
Comments are closed.