علی بابا نے 1 ٹریلین پیرا میٹرز پر مشتمل جدید ترین اے آئی ماڈل کُوین تھری-میکس متعارف کرا دیا
چینی ای کامرس کی بڑی کمپنی علی بابا نے بدھ کے روز اپنے سب سے بڑے آرٹیفیشل انٹیلی جنس لینگویج ماڈل کُوین تھری-میکس کے اجراء کا اعلان کیا، جو کمپنی کی بنیادی کاروباری حکمت عملی کے طور پر اے آئی پر بھرپور انحصار کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ ماڈل، جو اب تک علی بابا کا سب سے طاقتور قرار دیا گیا ہے، میں ایک ٹریلین سے زائد پیرا میٹرز شامل ہیں، جو یہ طے کرتے ہیں کہ اے آئی نظام کس طرح معلومات کو پروسیس کرتا ہے۔ علی بابا کلاؤڈ کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر ژو جِنگرین کے مطابق یہ ماڈل خاص طور پر کوڈ جنریشن اور خودکار ایجنٹ کی صلاحیتوں میں نمایاں ہے۔
خودکار ایجنٹ کی صلاحیتوں کا مطلب یہ ہے کہ یہ نظام عام چیٹ بوٹ جیسے چیٹ جی پی ٹی کے مقابلے میں کم انسانی ہدایات کے ساتھ زیادہ خودمختار فیصلے اور اقدامات کر سکتا ہے، بشرطیکہ صارف اس کے لیے کوئی ہدف طے کرے۔
علی بابا نے تیسرے فریق کی جانچ رپورٹس جیسے ٹاﺅ ٹو-بینچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کُوین تھری-میکس نے بعض پیمانوں پر اپنے حریف ماڈلز جیسے این تھراپک کا کلاؤڈ اور ڈیپ سیک– وی3.1 کو پیچھے چھوڑ دیا۔
ای کامرس کے روایتی آپریشنز کے ساتھ ساتھ، علی بابا نے اے آئی کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔
رواں برس کے اوائل میں کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ وہ اگلے تین برسوں میں 380 ارب یوآن (53.40 ارب ڈالر) کی سرمایہ کاری اے آئی سے متعلقہ انفراسٹرکچر پر کرے گی، کیونکہ چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں جدید اے آئی صلاحیتوں کی دوڑ تیز ہو رہی ہے۔
کانفرنس کے دوران علی بابا کے سی ای او ایڈی وو نے کہا کہ کمپنی اخراجات میں مزید اضافہ کرے گی، تاہم انہوں نے کوئی رقم نہیں بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی انڈسٹری کی ترقی کی رفتار ہماری توقعات سے کہیں زیادہ ہے، اور اے آئی انفراسٹرکچر کی مانگ بھی ہماری پیش گوئیوں سے زیادہ ہے۔
کمپنی نے اپریل میںکُوین تھری ماڈل جاری کیا تھا۔ بدھ کے روز علی بابا نے دیگر کئی اے آئی مصنوعات بھی متعارف کروائیں، جن میں کُوین تھری-اومنی شامل ہے، جو ایک ملٹی موڈل اور ہمہ جہتی نظام ہے اور ورچوئل و مصنوعی ریئلٹی ایپلیکیشنز جیسے اسمارٹ گلاسز اور انٹیلیجنٹ کاک پٹس کے لیے مفید ہے۔






















Comments
Comments are closed.