وزیر اعظم کی آئی ایم ایف ایم ڈی اور صدر ورلڈ بینک سے ملاقات،سیلاب کے اثرات جائزے میں شامل کرنے پر زور
- آئی ایم ایف کا وفد 25 ستمبر کو پاکستان کا دورہ کرے گا
وزیراعظم شہباز شریف سے بدھ کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا اور ورلڈ بینک کے صدر اجے بانگا سے ملاقات کی جس میں پاکستان کی معاشی اصلاحات اور مستقبل کے تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نے پاکستان کے ساتھ آئی ایم ایف کی دیرینہ تعمیری شراکت داری کو سراہا جو جارجیوا کی قیادت میں مزید مضبوط ہوئی ہے۔
وزیراعظم نے مختلف پروگرامز کے تحت آئی ایم ایف کی بروقت معاونت کا اعتراف کیا جن میں مالی سال 2024 کے لیے 3 ارب ڈالر کا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ، اس کے بعد 7 ارب ڈالر کا ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) اور 1.4 ارب ڈالر کا ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج گہرے ساختیاتی اصلاحات کے نفاذ کے ساتھ پاکستان کی معیشت استحکام کی مثبت علامات ظاہر کررہی ہے اور اب بحالی کی جانب بڑھ رہی ہے۔
وزیراعظم نے اس سلسلے میں آئی ایم ایف کی معاونت کو سراہا جس نے حکومت کی معاشی اصلاحاتی کوششوں کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مختلف اہداف اور وعدوں کی تکمیل کی جانب مسلسل پیش رفت کررہا ہے تاہم پاکستان کی معیشت پر حالیہ سیلابوں کے اثرات کو آئی ایم ایف کے جائزے میں شامل کیا جانا چاہیے۔
آئی ایم ایف کا ایک وفد 25 ستمبر 2025 کو پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) کے دوسرے ششماہی جائزے کا انعقاد کیا جا سکے۔
آئندہ جائزے میں مارچ اور جون 2025 کی سہ ماہیوں کے دوران پاکستان کی معاشی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ جائزے کی کامیاب تکمیل کے بعد آئی ایم ایف بورڈ کی جانب سے ایک ارب ڈالر کی قسط کی منظوری کا راستہ ہموار ہوگا جس کے تحت پاکستان پہلے ہی دو قسطوں میں 2 ارب ڈالر سے زائد وصول کر چکا ہے۔
تاہم یہ جائزہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب ملک کو تباہ کن سیلابوں نے گھیر رکھا ہے جو نئی غذائی افراطِ زر کے خدشات کو جنم دے رہے ہیں اور مالی مشکلات سے دوچار اس جنوبی ایشیائی ملک میں عوامی مشکلات کو مزید بڑھارہے ہیں۔
ادھر آئی ایم ایف کی سربراہ نے سیلاب سے متاثرہ تمام افراد سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے بحالی کی ترجیحات طے کرنے کے لیے نقصانات کے تخمینے کی اہمیت پر زور دیا۔
جارجیوا نے وزیراعظم کے مؤثر میکرو اکنامک پالیسیوں پر عملدرآمد کے عزم کو سراہا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان جب ضروری معاشی اصلاحات کو آگے بڑھائے گا تو آئی ایم ایف اپنی حمایت جاری رکھے گا تاکہ پائیدار اور طویل المدتی معاشی ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔
وزیراعظم کی ورلڈ بینک کے صدر سے ملاقات
ورلڈ بینک گروپ (ڈبلیو بی جی) کے صدر اجے بانگا سے علیحدہ ملاقات میں وزیراعظم نے ورلڈ بینک کو تیز تر، مؤثر اور بااثر ترقیاتی شراکت دار میں ڈھالنے میں اجے بانگا کی قیادت کو سراہا۔
جبکہ ورلڈ بینک نے پاکستان کی جاری معاشی اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی مسلسل معاونت جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔
وزیر اعظم نے خاص طور پر کووڈ-19 کی عالمگیر وبا اور 2022ء کے تباہ کن سیلاب کے دوران پاکستان کے لیے بینک کے دیرینہ تعاون کو سراہا۔
وزیر اعظم نے عالمی بینک کے صدر کو حکومت کے جامع اصلاحاتی ایجنڈے سے آگاہ کیا جس میں وسائل کو متحرک کرنے، توانائی شعبے میں اصلاحات، نجکاری اور موسمیاتی تبدیلیوں سے بچاؤ کے حوالے سے اقدامات شامل ہیں۔
وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اصلاحاتی ایجنڈے نے پاکستان کو میکرو اکنامک استحکام کی طرف گامزن کیا ہے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی کو فروغ ملا ہے۔
وزیر اعظم نے ورلڈ بینک کے نئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (2035-2026) کی بھی تعریف کی جس کے تحت عالمی بینک نے پاکستان کے لیے 40 ارب ڈالر کا تاریخی اور بے مثال وعدہ کیا ہے۔
وزیر اعظم نے اس کے موثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ قریبی رابطے کے حوالے سے وفاقی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔
صدر ورلڈ بینک نے پاکستان کے اصلاحاتی اقدامات کو سراہا اور پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے کے لیے بینک کی طرف سے تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے اقتصادی اصلاحات کے فروغ اور سی پی ایف کے تحت موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے طویل مدتی و پائیدار اقدامات کے لیے مسلسل تعاون بڑھانے کے حوالے سے بینک کے بھرپور عزم کا اظہار کیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ورلڈ بینک گروپ کے صدر اجے بنگا نے پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات میں پیش رفت کے لیے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
























Comments
Comments are closed.