اگست: ریئر انڈیکس معمولی اضافے کے ساتھ 100.10 پر ریکارڈ
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اگست 2025 میں پاکستان کا رئیل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ (ریئر) معمولی اضافے کے بعد 100.10 پر پہنچ گیا، جو جولائی 2025 میں 100.01 تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق ریئر انڈیکس میں ماہانہ 0.09 فیصد اضافہ ہوا، تاہم اگست 2024 کے مقابلے میں ریئر انڈیکس میں 0.06 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جب یہ 100.16 پر موجود تھا۔
ریئر انڈیکس کے 100 سے اوپر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ملکی برآمدات غیر مسابقتی جبکہ درآمدات سستی ہوجاتی ہیں جبکہ 100 سے نیچے ہونے پر صورتحال اس کے برعکس ہوتی ہے۔
اسٹیٹ بینک نے وضاحت کی کہ ریئر انڈیکس کا 100 ہونا کرنسی کی حقیقی متوازن قدر کی نشاندہی نہیں کرتا بلکہ 2010 کی اوسط کے مقابلے میں ہونے والی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔
اسی دوران نومینل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ (این ای ای آر) میں اگست 2025 کے دوران 0.90 فیصد ماہانہ اضافہ ہوا جس کے بعد یہ 37.84 پر پہنچ گیا جو جولائی 2025 میں 37.51 تھا،تاہم سالانہ بنیادوں پر نیئر انڈیکس میں 0.81 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی، جب اگست 2024 میں یہ 38.15 پر تھا۔
ریئر کیا ہے؟
اسٹیٹ بینک کے مطابق ریئر ایک ایسا اشاریہ ہے جو کسی بھی ملک میں سامان کی ایک ٹوکری کی قیمت کو اس ملک کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں اسی ٹوکری کی قیمت کے مقابلے میں ماپتا ہے۔ یہ قیمتیں برائے نام ایکسچینج ریٹ کے ذریعے ایک ہی کرنسی میں ظاہر کی جاتی ہیں اور ہر شراکت دار کی ٹوکری کو اس کے درآمدات، برآمدات یا کل تجارت میں حصے کے مطابق وزن دیا جاتا ہے۔

























Comments
Comments are closed.