وزیراعظم شہباز شریف کی اسرائیلی عزائم کا مقابلہ کرنے کے لیے عرب اسلامی ٹاسک فورس کے قیام کی تجویز
- وزیراعظم کا اقوام متحدہ سے اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے کے مطالبے کی او آئی سی قرارداد کا اعادہ
ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کی غرض سے ایک عرب اسلامی ٹاسک فورس کے قیام پر زور دیا ہے۔
پیر کے روز دوحہ میں منعقدہ ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل کو انسانیت کے خلاف اپنے جنگی جرائم پر جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔
وزیراعظم نے اقوام متحدہ سے اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے کے مطالبے پر مبنی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے موقف کا اعادہ کیا اور کہا کہ رکن ممالک کو اسرائیل کے خلاف دیگر مناسب اقدامات پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب ہفتم کے تحت اسرائیل سے مطالبہ کرے کہ وہ فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی پر عمل درآمد کرے، تمام یرغمالیوں کو رہا کرے اور فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ کرے۔
وزیراعظم نے تمام ضرورت مند فلسطینی شہریوں تک مسلسل، محفوظ اور مؤثر انسانی امداد کی فراہمی کی ضمانت دینے پر زور دیا، اور امدادی کارکنوں، طبی عملے، صحافیوں اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے دو ریاستی حل کی فوری، منصفانہ، جامع اور دیرپا ضرورت کو اجاگر کیا، جس میں 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور القدس الشریف کو اس کا دارالحکومت بنانے کا مطالبہ شامل ہے۔
وزیراعظم نے دوحہ پر اسرائیل کے غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز حملے کی سخت مذمت کی، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا تھا۔
انہوں نے قطر کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ قطر پر اسرائیلی حملہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ اسرائیل کی کھلی توسیع پسندانہ پالیسی کا ایک اور مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان قطر کی سفارتی کوششوں کو دل کی گہرائی سے سراہتا ہے، کیونکہ قطر نے ہمیشہ علاقائی اور عالمی امن کے فروغ اور تقسیم کو ختم کرنے کے لیے سنجیدہ اور مسلسل کوششیں کی ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ اسرائیل کی نسل کش مہم نے غزہ کو کھنڈر بنا دیا ہے، جہاں اب تک 64,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں ہزاروں بچے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ظلم و بربریت کی یہ انتہا ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے، جسے اب ہر صورت بند ہونا چاہیے۔
وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کا خطے کی صورتحال پرگفتگو
سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان سے ملاقات کی، جس میں اسرائیلی جارحیت کے بعد پیدا ہونے والی علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق اس ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر بھی شریک تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم دنیا کو ایک نازک مرحلے پر متحد کرنے میں سعودی ولی عہد کی قیادت کو سراہا اور یقین دلایا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، جہاں وہ اس وقت غیر مستقل رکن ہے—اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سمیت تمام عالمی فورمز پر مکمل سفارتی حمایت فراہم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ دوحہ میں سربراہی اجلاس کا انعقاد اسرائیلی اقدامات کے خلاف مسلم دنیا کے اتحاد کا ایک مضبوط پیغام تھا، جو خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
جواباً سعودی ولی عہد نے اقوام متحدہ اور او آئی سی میں قطر سے یکجہتی کے لیے پاکستان کی فعال سفارتی کوششوں کو سراہا، اور کہا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف کے رواں ہفتے ہونے والے دورۂ ریاض کے منتظر ہیں، جہاں دوطرفہ، علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔






















Comments
Comments are closed.