وزیراعظم محمد شہباز شریف 15 ستمبر کو دوحہ میں منعقد ہونے والے ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے قطر کا دورہ کریں گے۔ دفتر خارجہ نے ہفتے کے روز اس دورے کی تصدیق کی ہے۔
یہ اجلاس، جس کی مشترکہ میزبانی پاکستان کر رہا ہے، اسرائیل کے فضائی حملوں اور فلسطین کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں طلب کیا گیا ہے، جن میں غزہ پر قبضے کی کوششیں، مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاری کے منصوبے اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی شامل ہیں۔
بین الاقوامی قوانین اور علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، اسرائیل نے منگل کے روز قطر پر متعدد حملے کیے، جن میں چھ افراد جاں بحق ہوئے، جن میں حماس کے پانچ ارکان شامل تھے، تاہم ان میں کوئی اعلیٰ رہنما شامل نہیں تھا، جبکہ جاں بحق ہونے والوں میں قطر کی سیکورٹی فورسز کا ایک رکن بھی شامل تھا جس کی عمر بیس کے عشرے میں تھی۔ اس بلااشتعال فوجی جارحیت کی مختلف ممالک نے مذمت کی ہے۔
ادھر دفتر خارجہ کے مطابق دوحہ سربراہی اجلاس میں اسلامی تعاون تنظیم (آو آئی سی) کے رکن ممالک کے سربراہانِ مملکت، حکومت اور سینئر حکام کی شرکت متوقع ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق سربراہی اجلاس سے قبل وزرائے خارجہ کا تیاری اجلاس 14 ستمبر کو منعقد ہوگا، جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار شرکت کریں گے۔
دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ”پاکستان، قطر کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور قطر سمیت خطے کے دیگر ممالک پر اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتا ہے۔“
یہ ایک ہفتے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کا قطر کا دوسرا دورہ ہوگا۔ اس سے قبل وہ 11 ستمبر کو دوحہ گئے تھے، جہاں انہوں نے قطری قیادت سے ملاقات کر کے قطر کی سلامتی، خودمختاری اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا تھا۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا تھا جب اس سے دو روز قبل اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے دوحہ میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا، تاہم حماس نے کہا کہ اس کے اعلیٰ عہدیدار حملے میں محفوظ رہے۔

























Comments
Comments are closed.