BR100 Decreased By (-0.07%)
BR30 Decreased By (-0.18%)
KSE100 Increased By (0.05%)
KSE30 Increased By (0.06%)
BAFL 56.75 Increased By ▲ 0.28 (0.5%)
BIPL 24.89 Increased By ▲ 0.26 (1.06%)
BOP 30.07 Decreased By ▼ -0.05 (-0.17%)
CNERGY 12.90 Decreased By ▼ -0.08 (-0.62%)
DFML 18.10 Increased By ▲ 0.61 (3.49%)
DGKC 186.63 Decreased By ▼ -0.59 (-0.32%)
FABL 93.70 Decreased By ▼ -0.01 (-0.01%)
FCCL 51.70 Increased By ▲ 0.05 (0.1%)
FFL 14.50 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
GGL 18.99 Decreased By ▼ -0.05 (-0.26%)
HBL 303.98 Increased By ▲ 0.20 (0.07%)
HUBC 199.00 Increased By ▲ 0.04 (0.02%)
HUMNL 9.86 Increased By ▲ 0.01 (0.1%)
KEL 6.02 Decreased By ▼ -0.04 (-0.66%)
LOTCHEM 26.60 Increased By ▲ 0.43 (1.64%)
MLCF 90.75 Decreased By ▼ -0.48 (-0.53%)
OGDC 313.70 Increased By ▲ 0.31 (0.1%)
PAEL 35.16 Decreased By ▼ -0.08 (-0.23%)
PIBTL 14.68 Decreased By ▼ -0.03 (-0.2%)
PIOC 238.00 Decreased By ▼ -1.62 (-0.68%)
PPL 220.00 Decreased By ▼ -1.36 (-0.61%)
PRL 91.50 Increased By ▲ 0.28 (0.31%)
SNGP 90.45 Decreased By ▼ -0.42 (-0.46%)
SSGC 23.33 Increased By ▲ 0.03 (0.13%)
TELE 7.61 No Change ▼ 0.00 (0%)
TPLP 12.53 Decreased By ▼ -0.03 (-0.24%)
TRG 55.66 Decreased By ▼ -0.13 (-0.23%)
UNITY 8.00 Decreased By ▼ -0.02 (-0.25%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)

سپریم کورٹ کے فل کورٹ نے اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ سپریم کورٹ رولز کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جائے گا اور جہاں ضرورت ہو وہاں ان میں ترمیم کی جائے گی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق مختلف شقوں پر تفصیلی غور کے بعد فل کورٹ نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ سپریم کورٹ رولز 2025 ایک ’’زندہ دستاویز‘‘ ہیں، جن کا مسلسل جائزہ اور وقت کے تقاضوں کے مطابق ترمیم ناگزیر ہے۔

یہ پیش رفت سپریم کورٹ کے 156ویں فل کورٹ اجلاس کے دوران ہوئی جس کی صدارت چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس یحییٰ آفریدی نے پیر کے روز اسلام آباد میں سپریم کورٹ بلڈنگ میں کی۔

اجلاس میں سپریم کورٹ کے دیگر 19 جج صاحبان نے بھی شرکت کی جن میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس عرفان سعادت خان، جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس ملک شہزاد احمد خان، جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس شاہد بلال، جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس محمد شفیع صدیقی، جسٹس صلاح الدین پنہور، جسٹس شکیل احمد، جسٹس عامر فاروق، جسٹس اسحاق ابراہیم، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل تھے۔

ابتدا میں چیف جسٹس نے سپریم کورٹ رولز 1980 کے جائزے کے لیے قائم کمیٹی کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام جج صاحبان اور وکلاء برادری کی آراء کی روشنی میں انجام دیا گیا جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ رولز 2025 کا ایک جامع مسودہ سامنے آیا ہے۔

کمیٹی کے چیئرمین جسٹس شاہد وحید نے فل کورٹ کو رولز پر بریفنگ دی۔ مختلف پہلوؤں پر غور اور چند اہم شقوں پر بحث کے بعد فل کورٹ نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ فی الحال عدالت فیس اور سکیورٹی میں اضافے سے متعلق ترامیم کے نفاذ کو موخر کیا جائے۔

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے جج صاحبان، بار نمائندگان یا دیگر اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز کمیٹی میں زیرِ غور آئیں گی اور پھر ان سفارشات کی روشنی میں فل کورٹ کو فیصلہ کے لیے پیش کی جائیں گی۔

چیف جسٹس نے اس پیش رفت کو ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدلیہ کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور سپریم کورٹ رولز کو عصری تقاضوں کے مطابق موثر اور متحرک رکھنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

دوسری جانب مقامی میڈیا کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اطہر من اللہ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے نام ایک خط میں سپریم کورٹ رولز 2025 کے جائزے اور منظوری کے طریقۂ کار پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

چاروں سینئر جج صاحبان نے فل کورٹ کے اجلاس کو ’’صرف ایک رسمی منظوری‘‘ قرار دیا اور موقف اختیار کیا کہ یہ رولز پہلے ہی یکطرفہ طور پر طے اور منظور کر لیے گئے تھے۔

Comments

Comments are closed.