امریکا میں ہنڈائی فیکٹری پر چھاپہ، جنوبی کوریا گرفتار کارکنوں کو وطن واپس لانے کیلئے چارٹرڈ پرواز بھیجے گا
گزشتہ ہفتے امریکی ریاست جارجیا میں ہنڈائی موٹر کی مینوفیکچرنگ فیکٹری پر چھاپے کے بعد گرفتار کیے گئے تقریباً 300 جنوبی کوریائی کارکنوں کی رہائی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے اتوار کو بتایا کہ امریکی حکام سے مذاکرات مکمل ہوچکے ہیں اور رہائی کا عمل جاری ہے، جس کے بعد ایک چارٹر طیارہ انہیں وطن واپس لے آئے گا۔
واشنگٹن میں جنوبی کوریا کے قونصل جنرل چو کی جونگ نے یونہاپ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ کارکن ممکنہ طور پر بدھ کو وطن واپسی کی پرواز پر سوار ہوں گے۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے ردعمل نہیں دیا، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے سرحدی امور ٹام ہومن نے مزید امیگریشن چھاپوں کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب ٹرمپ نے نسبتاً نرم لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ غیرملکی کمپنیاں امریکا میں سرمایہ کاری ضرور کریں لیکن ملک کے امیگریشن قوانین کا احترام کریں۔
امریکی حکام نے جمعرات کو ہنڈائی کے 4.3 ارب ڈالر کے الیکٹرک وہیکل بیٹری پراجیکٹ پر 475 کارکنوں کو گرفتار کیا، جو محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی قرار دی گئی۔ گرفتار افراد میں اکثریت جنوبی کوریائی کارکنوں کی تھی۔
اس واقعے نے سیول میں تشویش پیدا کی، خاص طور پر اس وقت جب صرف 10 روز قبل امریکی اور جنوبی کوریائی صدور نے سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔
جنوبی کوریا کے چیف آف اسٹاف کانگ ہون سک نے کہا کہ حکومت امریکی ویزا نظام میں بہتری کے طریقے تلاش کرے گی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
یہ پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب دونوں ممالک تجارتی معاہدے کے آخری مراحل طے کر رہے ہیں، جس میں 350 ارب ڈالر کا فنڈ بھی شامل ہے تاکہ کوریائی کمپنیاں امریکی مارکیٹ میں داخل ہو سکیں۔






















Comments
Comments are closed.