پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) نے پیٹرولیم ڈویژن کو آگاہ کیا ہے کہ گڈو کمبائنڈ سائیکل پاور پلانٹ (جنکو-II) کی جانب سے گیس کے کم استعمال کے باعث کمپنی کو نمایاں مالی خطرات کا سامنا ہے، لہٰذا گیس کی فروخت کسی تیسرے فریق کو کرنے کی اجازت دی جائے۔
ڈائریکٹر جنرل (گیس) پیٹرولیم ڈویژن کو لکھے گئے خط میں پی پی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر نے 22 جولائی 2025 کے مراسلے کا حوالہ دیا، جس میں جنکو-II کی جانب سے کندھ کوٹ گیس فیلڈ (کے جی ایف) سے کم گیس لینے کے مسئلے اور زائد گیس کی ری الاٹمنٹ کی نشاندہی کی گئی تھی۔
منیجنگ ڈائریکٹر پی پی ایل کے مطابق یکم جولائی سے 31 اگست 2025 کے دوران جنکو-II کی جانب سے کندھ کوٹ فیلڈ سے یومیہ اوسطاً 115.9 ایم ایم سی ایف ڈی گیس حاصل کی گئی، جو کہ سالانہ معاہدہ شدہ مقدار 130 ایم ایم سی ایف ڈی سے کافی کم ہے۔ مزید یہ کہ 20 اگست کے بعد یومیہ طلب مزید گھٹ کر 100 ایم ایم سی ایف ڈی رہ گئی۔
پی پی ایل کے مطابق دستیاب گیس کے اس مسلسل کم استعمال کے نتیجے میں کمپنی کو بھاری مالی نقصانات کا سامنا ہے، جبکہ ریزروائر مینجمنٹ، فیلڈ آپریشنز اور فیلڈ کی پیداواری صلاحیت بھی متاثر ہو رہی ہے، اور پیداوار کی بہتر منصوبہ بندی میں رکاوٹ پیش آ رہی ہے۔
موجودہ صورتحال کے پیش نظر، پی پی ایل نے ڈائریکٹر جنرل (گیس) سے درخواست کی کہ ملاقات کے لیے وقت مقرر کیا جائے تاکہ کندھ کوٹ گیس فیلڈ سے اضافی گیس کو جب اور جہاں دستیاب ہو کی بنیاد پر تیسرے فریق کو فروخت کرنے کی تجویز پر بات چیت ہو سکے۔
اس سے قبل بھی پی پی ایل نے ڈائریکٹوریٹ جنرل (گیس) سے درخواست کی تھی کہ جنکو-II (747 میگاواٹ گڈو تھرمل پاور پلانٹ) کے معاہدے کی خلاف ورزی کے باعث کندھ کوٹ گیس فیلڈ سے 50 ایم ایم سی ایف ڈی زائد گیس کسی تیسرے فریق کو فروخت کرنے کی اجازت دی جائے۔ کمپنی نے یہ بھی واضح کیا کہ کے جی ایف کے سالانہ پیداواری اہداف حاصل نہیں ہو سکے، جبکہ ملحقہ چاچر گیس فیلڈ کی پیداوار 15 مارچ 2025 سے مکمل طور پر بند ہے۔
اس پس منظر میں پی پی ایل نے ڈی جی (گیس) سے اپیل کی کہ جنکو-II کو گیس کے حصول کے اپنے معاہدے کی پاسداری کرنے کی ہدایت دی جائے اور زیادہ اہم یہ کہ 50 ایم ایم سی ایف ڈی زائد گیس کی تیسرے فریق کو ری الاٹمنٹ کی منظوری دی جائے تاکہ جاری نقصانات کو کم کیا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.