BR100 Decreased By (-0.73%)
BR30 Decreased By (-0.77%)
KSE100 Decreased By (-0.49%)
KSE30 Decreased By (-0.47%)
BAFL 58.44 Decreased By ▼ -0.58 (-0.98%)
BIPL 25.20 Decreased By ▼ -0.09 (-0.36%)
BOP 33.99 Increased By ▲ 0.03 (0.09%)
CNERGY 8.11 Decreased By ▼ -0.20 (-2.41%)
DFML 20.84 Decreased By ▼ -0.18 (-0.86%)
DGKC 192.97 Decreased By ▼ -2.69 (-1.37%)
FABL 89.79 Decreased By ▼ -0.42 (-0.47%)
FCCL 52.83 Decreased By ▼ -0.17 (-0.32%)
FFL 17.95 Decreased By ▼ -0.20 (-1.1%)
GGL 18.97 Decreased By ▼ -0.17 (-0.89%)
HBL 285.50 Decreased By ▼ -2.31 (-0.8%)
HUBC 214.38 Decreased By ▼ -1.57 (-0.73%)
HUMNL 10.88 Decreased By ▼ -0.12 (-1.09%)
KEL 8.02 Decreased By ▼ -0.12 (-1.47%)
LOTCHEM 27.89 Decreased By ▼ -0.61 (-2.14%)
MLCF 86.51 Decreased By ▼ -1.37 (-1.56%)
OGDC 319.96 Decreased By ▼ -0.62 (-0.19%)
PAEL 39.42 Decreased By ▼ -0.65 (-1.62%)
PIBTL 16.67 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
PIOC 266.06 Decreased By ▼ -1.72 (-0.64%)
PPL 228.18 Decreased By ▼ -2.19 (-0.95%)
PRL 34.68 Decreased By ▼ -0.36 (-1.03%)
SNGP 99.18 Decreased By ▼ -0.18 (-0.18%)
SSGC 26.60 Decreased By ▼ -0.37 (-1.37%)
TELE 8.28 Decreased By ▼ -0.09 (-1.08%)
TPLP 8.22 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
TRG 69.71 Decreased By ▼ -0.92 (-1.3%)
UNITY 11.67 Decreased By ▼ -0.10 (-0.85%)
WTL 1.28 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)
پاکستان

پاکستان میں اربوں ڈالر کی گمشدہ رقوم نے عالمی ماحولیاتی مالی امداد کی تلخ حقیقت بے نقاب کر دی، بلومبرگ رپورٹ

جب جون میں پاکستان کے وادی سوات میں سیلابی ریلا سیاحوں کے ایک گروپ کو بہا لے گیا تھا تو پورے ملک میں ایک بار پھر وہی...
شائع September 4, 2025 اپ ڈیٹ September 4, 2025 10:36pm

جب جون میں پاکستان کے وادی سوات میں سیلابی ریلا سیاحوں کے ایک گروپ کو بہا لے گیا تھا تو پورے ملک میں ایک بار پھر وہی پرانا کربناک منظر آنکھوں کے سامنے گھوم گیا، جیسے سب کچھ پہلے بھی ہو چکا ہو۔

صرف تین سال قبل، تباہ کن سیلاب نے پاکستان کے ”سوئٹزرلینڈ“ کہلائے جانے والے علاقے میں پورے ہوٹل اور سیاح خاندانوں سمیت نگل لیے تھے، جس میں 1,700 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے اور اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ آج ایک بار پھر شدید بارشوں نے ملک کے بڑے حصے کو ڈبو دیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

قدرتی آفات کے اثرات سے نمٹنے کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال مون سون کا آغاز معمول سے پہلے 26 جون کو ہوا، اور اب تک یہ نظام ملک بھر میں 900 کے قریب افراد کی جان لے چکا ہے جبکہ 1,180 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ صرف خیبر پختونخوا میں شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلابوں کے نتیجے میں 400 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔ سوات میں ہزاروں مکانات تباہ ہو چکے ہیں اور نقصانات کا تخمینہ اربوں روپے میں لگایا جا رہا ہے۔

![ ۔ ][1

پاکستان کا سب سے گنجان آباد اور زرعی صوبہ پنجاب حالیہ سیلابی تباہ کاریوں سے بدترین متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اب تک 46 افراد جان سے جا چکے ہیں، تقریباً 39 لاکھ متاثر، 18 لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں دیہات دریائے چناب، راوی اور ستلج میں طغیانی کے باعث زیرِ آب آ چکے ہیں، یہ صورتحال جولائی کے اواخر سے جاری ہے۔

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ”یہ ملتان شہر اور ضلع کے لیے نازک ترین وقت ہے۔“

ملک بھر میں این ڈی ایم اے کے مطابق اس سیزن میں بارشوں، سیلابوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے 883 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جو کہ 2022 کے بدترین سیلاب کی یاد تازہ کر رہے ہیں — جس میں ملک کا ایک تہائی حصہ زیرِ آب آ گیا تھا، 3 کروڑ افراد بے گھر ہوئے تھے، اور 35 ارب ڈالر سے زائد کے نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے ہم آہنگیِ انسانی امور (او سی ایچ اے) کے مطابق متاثرہ علاقوں میں کمیونٹیز کو فوری طور پر پناہ گاہوں، طبی امداد، صاف پانی، صفائی کے کٹس، روزگار کے لیے نقد امداد، اور تحفظ کی خدمات کی اشد ضرورت ہے، خاص طور پر خواتین اور بچیوں کے لیے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ”ریلیف اقدامات کی قیادت پاکستانی حکام کر رہے ہیں، اقوام متحدہ اور مقامی شراکت دار ان کی معاونت کر رہے ہیں۔“

تاہم بلومبرگ کے مطابق، یہ بار بار آنے والی تباہ کاریاں پاکستان کی ناقص آفات سے نمٹنے کی تیاریوں اور ترقی یافتہ و زیادہ کاربن اخراج کرنے والے ممالک کی جانب سے کیے گئے موسمیاتی امداد کے وعدوں کی عدم تکمیل کو بے نقاب کرتی ہیں۔

یہ صورتحال ان کم ترقی یافتہ معیشتوں کے لیے ایک تلخ حقیقت ہے، جو خود تو موسمیاتی تبدیلی کے ذمہ دار نہیں، لیکن اس کے بدترین اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق یورپی یونین، چین، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر اداروں کی جانب سے 2022 کے سیلاب کے بعد تقریباً 11 ارب ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن اب تک آدھی سے بھی کم رقم پاکستان کو موصول ہوئی ہے۔

وزارت اقتصادی امور کا کہنا ہے کہ امدادی رقم کا تقریباً 75 فیصد حصہ مخصوص منصوبوں کے لیے مختص تو ہو چکا ہے، لیکن فنڈز کی مکمل فراہمی تا حال باقی ہے۔

ان نامکمل وعدوں کے باوجود، نئے اعلانات کا سلسلہ جاری ہے، یورپی یونین نے حالیہ ہفتے 11 لاکھ ڈالر کی ہنگامی امداد کا اعلان کیا ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے 30 لاکھ ڈالر کی نئی امداد کا اعلان کیا۔

اقوام متحدہ کی جانب سے 6 لاکھ ڈالر کی امداد بھی دی گئی ہے۔

 ۔
۔

پاکستان، جو پہلے ہی معاشی و سیاسی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے، ماحولیاتی آفات کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا محتاج ہے۔ عالمی بینک کے تخمینے کے مطابق، ملک کو 2030 تک 348 ارب ڈالر درکار ہوں گے، جن میں سے صرف 16 ارب ڈالر 2022 کے تباہ کن سیلاب سے بحالی کے لیے درکار ہیں۔

اقوام متحدہ کے پاکستان میں مقیم انسانی ہمدردی کے رابطہ کار محمد یحییٰ نے کہا ہے کہ ”پاکستان کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ مالی وسائل کی کمی ہے۔“

اب تک کیے گئے عالمی وعدوں میں سے صرف 4.5 ارب ڈالر کی رقم جون تک جاری کی جا چکی ہے، جو زیادہ تر رہائشی، ٹرانسپورٹ، نکاسی آب، اور سیلابی خطرات سے نمٹنے کے منصوبوں کے لیے ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے 528 ملین ڈالر دیے، جن میں سندھ میں تعمیر نو کا منصوبہ شامل ہے۔

ورلڈ بینک نے ایک ارب ڈالر سے زائد سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں تعمیر نو و ماحولیاتی موافقت کے منصوبوں میں شامل کیے ہیں، اور مزید 600 ملین ڈالر کی منظوری بھی دی ہے۔

لیکن حکام اعتراف کرتے ہیں کہ ضرورت اور دستیاب فنڈز کے درمیان خلا اب بھی بہت بڑا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر ماحولیاتی موافقت کے لیے ہر سال 187 ارب ڈالر کی فنڈنگ کی کمی ہے، جو کہ ترقی یافتہ ممالک میں مالی دباؤ اور ڈونر تھکن کے باعث مزید بڑھ رہی ہے۔

کئی یورپی ممالک کا خیال ہے کہ چین کو بھی فنڈنگ میں حصہ ڈالنا چاہیے۔

مغربی ممالک، خاص طور پر امریکہ کی جانب سے پیرس معاہدے سے ماضی میں دستبرداری، نے بھی فنڈنگ کے تسلسل کو کمزور کیا۔

دستیاب فنڈنگ عموماً قرضوں کی صورت میں آتی ہے، جو کہ قرضوں میں جکڑے ممالک جیسے پاکستان کے لیے مزید دباؤ کا باعث بنتی ہے۔

پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اگست میں اعتراف کیا کہ حکومت اب تک ایسے کافی ”قابلِ سرمایہ کاری منصوبے“ تیار نہیں کر سکی، جن میں سیلابی امداد سے متعلق فنڈز استعمال کیے جا سکیں۔

سیاسی عدم استحکام، کرپشن، اور ناقص وسائل کی تقسیم نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اسلام آباد کے ماحولیاتی سائنسدان عمران خالد کا کہنا ہے کہ ”حکومت کو پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ عوام کی اصل ضروریات کیا ہیں، اور پھر ان کی روشنی میں منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔“

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو بہتر شہری منصوبہ بندی اور بڑے مالیاتی پیکیجز کو سنبھالنے کے مضبوط نظام کی فوری ضرورت ہے۔

پاکستان کے نیشنل ایڈاپٹیشن پلان میں درج ذیل منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری تجویز کی گئی ہے: ابتدائی وارننگ سسٹمز، بارشی پانی کو محفوظ کرنے کے لیے ویٹ لینڈز، خشک سالی اور سیلاب کے تسلسل سے نمٹنے کے لیے مزاحم انفرااسٹرکچر

وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے جولائی میں پارلیمان کو بتایا تھا کہ حکومت ماحولیاتی فنڈنگ کی تقسیم اور نگرانی کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کر رہی ہے۔

جولائی میں پاکستان نے چین کے تعاون سے ایک ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ لانچ کیا ہے، جو آفات کی نگرانی میں مدد دے گا۔

اقوام متحدہ کے تعاون سے، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کی وادیوں میں افسران کی تربیت اور ابتدائی وارننگ سسٹم کی توسیع پر کام جاری ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق اس سال بارشیں گزشتہ سال کے مقابلے میں 82 فیصد زیادہ ہوئی ہیں۔

تقریباً 900 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، ہزاروں بے گھر اور لاکھوں ایکڑ پر فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔

پاکستان میں 7,200 سے زائد گلیشیئرز ہیں، قطبین کے بعد سب سے زیادہ ، جس کی وجہ سے سیلاب ملک کا سب سے عام قدرتی خطرہ بن چکا ہے۔

اسلام آباد کے تھنک ٹینک ”تبادلب“ کے شراکت دار ذیشان صلاح الدین کا کہنا ہے کہ ”اگر یہ تباہ کن واقعات یوں ہی جاری رہے، تو یہ پاکستان پر معاشی بوجھ مزید بڑھا دیں گے۔ اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان جدید مالیاتی حل تلاش کرے اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔“

Comments

Comments are closed.