وزیر اعظم کے کیش لیس معیشت کے وژن کو آگے بڑھانے کے ایک اہم اقدام کے طور پر کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے فیصلہ کیا ہے کہ اسلام آباد میں کیو آر کوڈ پر مبنی ڈیجیٹل ادائیگیاں لازمی ہونگی۔
یہ فیصلہ سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں ممبر ایڈمنسٹریشن اینڈ اسٹیٹ طلعت محمود کی صدارت میں ہونے والے اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا گیا جس میں ممبر فنانس طاہر نعیم، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سی ڈی اے، آئی سی ٹی ایڈمنسٹریشن کے سینئر حکام اور نجی و تجارتی بینکوں کے نمائندگان شریک ہوئے۔
منصوبے کے تحت شہر کے تمام کاروبار—خوردہ فروش، ہول سیلرز، سبزی و فروٹ مارکیٹس، ریسٹورنٹس، شاپنگ مالز، فارمیسیاں، اسپتال، لیبارٹریاں، سرکاری و نجی دفاتر اور ٹیکسی سروسز—کو لازمی طور پر ڈیجیٹل ادائیگی کے لیے کیو آر کوڈز دکھانے ہوں گے۔ سی ڈی اے جلد ہی اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرے گا۔
شہریوں میں کیش لیس ادائیگی کے طریقوں کے فروغ کے لیے پورے شہر میں آگاہی مہم چلائی جائے گی۔ تاجروں کی سہولت کے لیے بینک براہِ راست راست کیو آر کوڈز جاری کریں گے جبکہ سی ڈی اے بھی اپنے تمام ادائیگیوں کے لیے مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام اختیار کر لے گا۔
عملدرآمد کی نگرانی کے لیے سی ڈی اے، آئی سی ٹی، اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے حکام پر مشتمل ایک اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو پیش رفت کا جائزہ لے گی، رکاوٹیں دور کرے گی اور یکساں پالیسی کو یقینی بنائے گی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے طلعت محمود نے کہا کہ بینکوں، اداروں اور کاروباری برادری کے ساتھ قریبی رابطہ یقینی بنایا جائے گا تاکہ اسلام آباد کو پاکستان کا پہلا مکمل کیش لیس اور ڈیجیٹل شہر بنایا جاسکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سی ڈی اے نے اپنے دفاتر میں نقدی کے لین دین کو ختم کر کے پیپرلیس نظام متعارف کردیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025






















Comments
Comments are closed.