پنجاب میں دریاؤں کی سطح غیر معمولی طور پر بلند،حادثات میں 20افراد جاں بحق، مزید بارشوں کی پیشگوئی
- بھارت کی جانب سے پنجاب کے دریاؤں میں پانی چھوڑنے کے بعد سیلاب نے صوبے میں تباہی مچا دی
پنجاب کی دریاؤں میں انتہائی بلند سطح کی سیلابی صورتحال جاری ہے، جبکہ صوبے میں مزید موسلا دھار بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، اور سیلاب سندھ کی جانب بڑھنے لگا ہے۔
آج نیوز کے مطابق سیلاب کے باعث کئی مقامات پر پشتے ٹوٹ گئے ہیں اور سیکڑوں بستیوں کو پانی نے ڈبو دیا ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم 20 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
بھارت کی جانب سے پنجاب کے دریاؤں میں پانی چھوڑنے کے بعد صوبے میں سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ کئی جگہوں پر بند ٹوٹ گئے، اور پانی بستیوں میں داخل ہو گیا۔ دریائے راوی، چناب اور ستلج کے سیلابی ریلے نے آس پاس کے دیہات کو ڈبو دیا جبکہ کھیت بھی برباد ہو گئے۔
ہزاروں افراد کھلے آسمان تلے کسمپرسی کی حالت میں رہنے پر مجبور ہیں اور خوراک و ادویات کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ تیس اضلاع میں تین ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ سات سو کشتیاں ریسکیو آپریشنز میں حصہ لے رہی ہیں۔
وزیرآباد، قصور، نارووال، حافظ آباد، کمالیہ، منڈی بہاؤالدین، بہاولنگر، سیالکوٹ، سرگودھا، وہاڑی اور پاکپتن سمیت کئی علاقوں کے دیہات پانی میں گھر گئے اور زمینی رابطہ منقطع ہو گیا، جبکہ عارضی پشتے بھی کئی جگہ ٹوٹ گئے۔
اسی دوران ہیڈ مرالہ پر آنے والے سیلابی ریلے نے سیالکوٹ کو باجوَت سیکٹر کے 80 دیہات سے ملانے والا واحد راستہ تباہ کر دیا۔ اس علاقے میں پانچ سال قبل پندرہ کروڑ روپے کی لاگت سے لگایا گیا چیئر لفٹ بھی پانی میں بہہ گئی۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ تین دن گزر گئے ہیں مگر کوئی ان کی مدد کو نہیں آیا، اور ان کے حلقے کے ایم این اے صرف فوٹو سیشن کے لیے آئے تھے۔
سینکڑوں گھروں کو خالی کرایا گیا اور مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا، جب دریائے راوی کا پانی رائے ونڈ تحصیل کی ملتان روڈ پر واقع کئی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں داخل ہو گیا۔
تھیم پارک ملتان روڈ پر سیلابی پانی نے تباہی مچائی۔ انتظامیہ کرین کی مدد سے عارضی رکاوٹ بنا کر پانی کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔
دوسری طرف ریسکیو ٹیم نے مانگا ہتھر اور نینو ڈوگر سے پچاس سے زائد افراد کو بچایا جو سیلابی پانی میں پھنس گئے تھے۔
دریاؤں کی صورتحال
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ موسلادھار مون سون بارشوں اور بھارت کی جانب سے ڈیموں سے اضافی پانی چھوڑنے کے باعث پنجاب میں تین بڑے دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہو گئی، جس پر حکام کو کچھ مقامات پر دریا کے کنارے توڑنے پڑے — جس کے نتیجے میں 1,400 سے زائد دیہات میں سیلاب آ گیا۔
رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ قدیرآباد جیسے دیہات کے رہائشی جمعرات کو پانی میں سینے تک ڈوب کر چل رہے تھے جب دریائے چناب میں طغیانی آئی اور اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔
26 سالہ مزدور ندیم اقبال نے اپنے بچے کو کندھے پر اٹھائے پانی میں چلتے ہوئے رائٹرز کو بتایا کہ ہم نے ساری رات جاگتے ہوئے اور خوفزدہ گزاری۔
اس کا کہنا تھا کہ سب خوفزدہ تھے۔ بچے روتے رہے۔ عورتیں پریشان تھیں۔ ہم بالکل بے بس تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پنجاب — جو پاکستان کی نصف آبادی کا گھر ہے اور گندم، چاول اور کپاس کا بڑا پیداوار کنندہ ہے — میں سیلاب کی شدت بھارت کی جانب سے دریائے راوی، ستلج اور چناب میں پانی چھوڑنے سے مزید بڑھ گئی ہے، جو بروقت اطلاع دیے بغیر کیا گیا۔

پی ڈی ایم اے کے ڈی جی عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ دریائے راوی کے بلوکی مقام پر سیلابی صورتحال ہے، اور یہ سیلاب اگلے 24 گھنٹوں میں خانیوال پہنچے گا۔ ہمارے تمام ادارے مکمل الرٹ پر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے 1,769 علاقے ابھی تک پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں، جبکہ تقریباً 27,000 افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔
عرفان علی نے بتایا کہ پاکستان آرمی، پنجاب رینجرز اور ریسکیو ٹیمیں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چنیوٹ پل پر پانی کا بہاؤ 824,500 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
ملک بھر میں بارشوں کی پیشگوئی
پاکستان کے مختلف علاقوں میں جمعہ سے موسلا دھار بارشوں اور ممکنہ سیلاب کی پیشگوئی ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں جمعہ (آج) سے منگل تک بارش اور گرج چمک کا امکان ہے۔
جبکہ 30 سے 31 اگست کے دوران پنجاب کے شمالی اور شمال مشرقی اضلاع بشمول راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، نارووال، حافظ آباد اور منڈی بہاؤالدین میں شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کی توقع ہے۔
وسطی اور جنوبی پنجاب میں 29 سے 31 اگست کے دوران بارشیں متوقع ہیں، جہاں نشیبی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں۔ ملتان، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، لیہ، بھکر، ساہیوال، بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان میں شدید بارشیں فلیش فلڈ کا سبب بن سکتی ہیں۔
خیبر پختونخوا میں جمعہ سے ماہ اگست کی 31 تاریخ تک شدید بارشوں کی پیش گوئی ہے جو ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں لینڈ سلائیڈنگ کا سبب بن سکتی ہیں۔
این ڈی ایم اے کے مطابق موجودہ موسمی نظام جو جہلم کے بالائی علاقوں پر سرگرم ہے، جمعہ کو پاکستان میں داخل ہوگا اور منگل تک برقرار رہے گا۔
اس نظام کے زیر اثر آزاد جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں بشمول کوٹلی، باغ، میرپور، پونچھ، راولا کوٹ، مظفرآباد، حویلی اور ملحقہ علاقے معتدل سے شدید بارشوں کا سامنا کریں گے۔ یہ نظام شہری اور نشیبی علاقوں میں سیلاب، لینڈ سلائیڈز اور اچانک آنے والے سیلاب (فلیش فلڈ) کا سبب بن سکتا ہے۔
گلگت بلتستان میں جمعہ سے اتوار تک شدید بارشیں متوقع ہیں، جو لینڈ سلائیڈنگ اور گلشیائی جھیل کے پھٹنے کا باعث بن سکتی ہیں، بشمول گلگت، سکردو، ہنزہ، دیامر، استور، غذر اور گانچھے کے اضلاع۔
سندھ میں بارش کا امکان ساحلی اضلاع میں ہے، بشمول کراچی، ٹھٹھہ، سجاول، بدین اور تھرپارکر 30 اگست سے 2 ستمبر تک۔ کراچی میں ممکنہ شدید بارش کے باعث شہری سیلاب کا بھی خدشہ ہے۔
سندھ کے اندرونی اضلاع بشمول حیدرآباد، دادو، سکھر، گھوٹکی، لاڑکانہ، جیکب آباد اور کشمور میں 30 اگست سے یکم ستمبر تک بارشیں متوقع ہیں۔
بلوچستان کے ساحلی اور مشرقی اضلاع بشمول گوادر، کیچ، پنجگور، خضدار، لسبیلہ اور قلات میں جمعہ (آج) سے پیر تک بارشوں کا امکان ہے جس سے نشیبی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ ہے۔
این ڈی ایم اے نے سیاحوں کو ممکنہ بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے پیش نظر شمالی علاقوں کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

























Comments
Comments are closed.