BR100 Increased By (1.42%)
BR30 Increased By (1.24%)
KSE100 Increased By (1.02%)
KSE30 Increased By (1.18%)
BAFL 57.18 Increased By ▲ 0.79 (1.4%)
BIPL 26.75 Increased By ▲ 0.19 (0.72%)
BOP 33.78 Increased By ▲ 0.73 (2.21%)
CNERGY 9.60 Decreased By ▼ -0.08 (-0.83%)
DFML 18.48 Increased By ▲ 0.32 (1.76%)
DGKC 207.00 Increased By ▲ 2.99 (1.47%)
FABL 99.00 Increased By ▲ 2.03 (2.09%)
FCCL 51.84 Increased By ▲ 0.93 (1.83%)
FFL 16.66 Increased By ▲ 0.10 (0.6%)
GGL 23.31 Increased By ▲ 0.54 (2.37%)
HBL 303.20 Increased By ▲ 5.16 (1.73%)
HUBC 216.90 Increased By ▲ 0.47 (0.22%)
HUMNL 10.93 Increased By ▲ 0.23 (2.15%)
KEL 7.44 Decreased By ▼ -0.08 (-1.06%)
LOTCHEM 30.58 Increased By ▲ 0.24 (0.79%)
MLCF 95.78 Increased By ▲ 2.46 (2.64%)
OGDC 320.70 Increased By ▲ 1.20 (0.38%)
PAEL 41.40 Increased By ▲ 0.34 (0.83%)
PIBTL 16.70 Increased By ▲ 0.25 (1.52%)
PIOC 262.50 Increased By ▲ 5.49 (2.14%)
PPL 223.49 Increased By ▲ 0.91 (0.41%)
PRL 41.55 Decreased By ▼ -0.50 (-1.19%)
SNGP 104.40 Decreased By ▼ -0.10 (-0.1%)
SSGC 28.50 Increased By ▲ 0.12 (0.42%)
TELE 8.71 Increased By ▲ 0.08 (0.93%)
TPLP 12.13 Increased By ▲ 1.10 (9.97%)
TRG 57.70 Decreased By ▼ -1.11 (-1.89%)
UNITY 9.68 Increased By ▲ 0.08 (0.83%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.02 (1.63%)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت سے آنے والی مصنوعات پر ٹیرف دگنے کرکے 50 فیصد تک بڑھانے کا فیصلہ بدھ کے روز نافذ ہوگیا جس سے بھارت کی امریکہ کو 55 فیصد برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس سے دنیا کی دو بڑی جمہوریتوں اور اسٹریٹجک شراکت داروں کے درمیان تجارتی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔

یہ نیا اقدام اس 25 فیصد تعزیری محصول کے علاوہ ہے جو بھارت کی روسی تیل کی خریداری کے باعث لگایا گیا تھا، یوں مجموعی ڈیوٹیاں گارمنٹس، جواہرات، جوتے، کھیلوں کا سامان، فرنیچر اور کیمیکلز جیسی مصنوعات پر 50 فیصد تک جا پہنچی ہیں، جو امریکہ کی جانب سے عائد کیے جانے والے بلند ترین نرخوں میں شمار ہوتے ہیں۔

ان محصولات سے ہزاروں چھوٹے برآمد کنندگان اور ملازمتیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جن میں وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات بھی شامل ہے۔ بھارتی وزارتِ تجارت کے ایک اہلکار نے کہا کہ متاثرہ برآمد کنندگان کو مالی مدد فراہم کی جائے گی اور نئی منڈیوں جیسے چین، لاطینی امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ میں مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔

امریکی کسٹمز نے بھارتی برآمدات کے لیے تین ہفتوں کی چھوٹ کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت وہ سامان جو 17 ستمبر کی ڈیڈلائن سے پہلے روانہ کیا گیا ہے، پرانے کم محصولات پر امریکہ میں داخل ہو سکے گا۔

یہ فیصلہ امریکہ اور بھارت کے درمیان پانچ ناکام مذاکراتی دوروں کے بعد سامنے آیا۔ بھارتی حکام پر امید تھے کہ محصولات 15 فیصد تک محدود ہو جائیں گے، جیسا کہ جاپان اور یورپی یونین کے ساتھ ہے، مگر بات چیت سیاسی غلط فہمیوں کے باعث ناکام ہوگئی۔

2024 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم 129 ارب ڈالر رہا، جس میں 45.8 ارب ڈالر کا خسارہ امریکہ کیلئے تھا۔ تجارتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان محصولات سے بھارت کی 87 ارب ڈالر کی برآمدات کا تقریباً 55 فیصد متاثر ہوسکتا ہے، جس کا فائدہ ویتنام، بنگلہ دیش اور چین کو ملے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پالیسی بھارت کی حیثیت کو بطور چین کا متبادل مینوفیکچرنگ مرکز متاثر کرسکتی ہے۔ اس کے باوجود دونوں ممالک نے مشترکہ بیان میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور کواڈ اتحاد کے لیے عزم کا اظہار کیا ہے۔

Comments

Comments are closed.