امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت سے آنے والی مصنوعات پر ٹیرف دگنے کرکے 50 فیصد تک بڑھانے کا فیصلہ بدھ کے روز نافذ ہوگیا جس سے بھارت کی امریکہ کو 55 فیصد برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس سے دنیا کی دو بڑی جمہوریتوں اور اسٹریٹجک شراکت داروں کے درمیان تجارتی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔
یہ نیا اقدام اس 25 فیصد تعزیری محصول کے علاوہ ہے جو بھارت کی روسی تیل کی خریداری کے باعث لگایا گیا تھا، یوں مجموعی ڈیوٹیاں گارمنٹس، جواہرات، جوتے، کھیلوں کا سامان، فرنیچر اور کیمیکلز جیسی مصنوعات پر 50 فیصد تک جا پہنچی ہیں، جو امریکہ کی جانب سے عائد کیے جانے والے بلند ترین نرخوں میں شمار ہوتے ہیں۔
ان محصولات سے ہزاروں چھوٹے برآمد کنندگان اور ملازمتیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جن میں وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات بھی شامل ہے۔ بھارتی وزارتِ تجارت کے ایک اہلکار نے کہا کہ متاثرہ برآمد کنندگان کو مالی مدد فراہم کی جائے گی اور نئی منڈیوں جیسے چین، لاطینی امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ میں مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔
امریکی کسٹمز نے بھارتی برآمدات کے لیے تین ہفتوں کی چھوٹ کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت وہ سامان جو 17 ستمبر کی ڈیڈلائن سے پہلے روانہ کیا گیا ہے، پرانے کم محصولات پر امریکہ میں داخل ہو سکے گا۔
یہ فیصلہ امریکہ اور بھارت کے درمیان پانچ ناکام مذاکراتی دوروں کے بعد سامنے آیا۔ بھارتی حکام پر امید تھے کہ محصولات 15 فیصد تک محدود ہو جائیں گے، جیسا کہ جاپان اور یورپی یونین کے ساتھ ہے، مگر بات چیت سیاسی غلط فہمیوں کے باعث ناکام ہوگئی۔
2024 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم 129 ارب ڈالر رہا، جس میں 45.8 ارب ڈالر کا خسارہ امریکہ کیلئے تھا۔ تجارتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان محصولات سے بھارت کی 87 ارب ڈالر کی برآمدات کا تقریباً 55 فیصد متاثر ہوسکتا ہے، جس کا فائدہ ویتنام، بنگلہ دیش اور چین کو ملے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پالیسی بھارت کی حیثیت کو بطور چین کا متبادل مینوفیکچرنگ مرکز متاثر کرسکتی ہے۔ اس کے باوجود دونوں ممالک نے مشترکہ بیان میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور کواڈ اتحاد کے لیے عزم کا اظہار کیا ہے۔


Comments
Comments are closed.