چین کے صدر شی جن پنگ آئندہ ہفتے تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں دنیا کے 20 سے زائد رہنماؤں کو اکٹھا کریں گے، جسے ماہرین ایک طاقتور مظاہرہ قرار دے رہے ہیں کہ گلوبل ساؤتھ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں یکجہتی دکھا رہا ہے اور ساتھ ہی یہ اجلاس روس کے لیے ایک اور سفارتی کامیابی ثابت ہو سکتا ہے۔
اجلاس 31 اگست سے یکم ستمبر تک ہوگا، جس میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی شریک ہوں گے۔ مودی کا یہ چین کا سات برس بعد پہلا دورہ ہوگا جو دونوں ہمسایوں کے درمیان 2020 کی سرحدی جھڑپوں کے بعد کشیدگی کم کرنے کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر شی اس اجلاس کو موقع کے طور پر استعمال کریں گے تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ امریکی قیادت کے بعد نیا عالمی نظام کیسا دکھائی دیتا ہے اور واشنگٹن کی چین، روس، ایران اور بھارت کے خلاف پالیسیوں کے باوجود گلوبل ساؤتھ متحد ہے۔
ایس سی او، جو 2001 میں قائم ہوا، اب 10 مستقل ارکان اور 16 مبصر و مکالمہ ممالک پر مشتمل ہے۔ اس کا دائرہ کار دہشت گردی کے خلاف اقدامات سے بڑھ کر معیشت اور دفاعی تعاون تک پھیل چکا ہے۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ تنظیم کے عملی نتائج محدود ہیں اور زیادہ تر توجہ طاقتور سیاسی بیانیے پر ہے۔
اجلاس میں چین اور بھارت کے درمیان مثبت پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے، جس میں سرحدی فوجی انخلا، تجارتی و ویزا پابندیوں میں نرمی اور ماحولیاتی تعاون شامل ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بڑے پالیسی فیصلے ممکن نہیں لیکن اجلاس کی ’’آپٹکس‘‘ عالمی سطح پر غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔






















Comments
Comments are closed.