آج نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان اور ملحقہ علاقوں میں طوفانی بارشوں اور تیز ہواؤں نے وسیع پیمانے پر تباہی مچادی، جس کی نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد جاں بحق اور 47 زخمی ہو گئے۔
سرکاری نقصان کے تخمینی جائزے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں پانچ کا تعلق تحصیل ڈیرہ اسماعیل خان سے تھا جبکہ تین افراد تحصیل پہاڑپور سے تعلق رکھتے تھے۔ زیادہ تر اموات چھتیں گرنے اور بارش سے متعلق دیگر حادثات میں ہوئیں۔
حکام کے مطابق 41 زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ چھ مریضوں کو مفتی محمود اسپتال لے جایا گیا۔ کم از کم 26 مریضوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا۔
بارش کے باعث درخت اکھڑ گئے اور بجلی کی تاریں ٹوٹ گئیں، جس سے کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔ پشاور، مردان، لکی مروت، شمالی و جنوبی وزیرستان میں بھی شدید بارش ہوئی جبکہ پلندری سمیت پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات بڑھ گئے۔
قومی آفات مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 30 اگست تک ملک بھر میں مزید شدید بارشوں کی تازہ وارننگ جاری کر دی ہے اور حساس علاقوں میں اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں مون سون بارشوں سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے، نالے ابل پڑے اور حکام کو راول ڈیم کے اسپِل ویز کھولنے پڑے۔ لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے پیش نظر مارگلہ ہلز کی کئی ہائیکنگ ٹریلز بھی بند کر دی گئیں۔
دوسری جانب اسکردو میں حکام نے دریا کی سطح بلند ہونے پر مقامی افراد اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی۔ گلگت دریا کے کنارے قائم ہوٹل خالی کرا لیے گئے ہیں۔ پنجاب کے ضلع قصور میں ستلج دریا کے بہاؤ میں تیزی کے باعث 30 سے زائد دیہات زیر آب آ گئے۔

























Comments
Comments are closed.