پاکستان اور رومانیہ نے سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کیے ہیں، جن میں یورپی یونین اور خلیجی مارکیٹوں کے لیے سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کے مشترکہ منصوبے شامل ہیں۔
ہفتہ کو جاری بیان کے مطابق یہ پیش رفت وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی اور رومانیہ کے سفیر دان اسٹوینیسکو کے درمیان ملاقات کے دوران ہوئی، جس میں سائنس، ٹیکنالوجی، جدت اور تعلیم میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر دان اسٹوینیسکو نے پاکستان کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور رومانیہ کی نیشنل اتھارٹی فار ڈیجیٹائزیشن و نیشنل اتھارٹی فار ریسرچ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کی تجویز پیش کی۔
علاوہ ازیں پاک رومانیہ سائنس و ٹیکنالوجی فورم کے قیام کی تجویز بھی دی گئی جس میں خاص طور پر آئی ٹی سیکٹر پر توجہ دی جائے گی۔
دان اسٹوینیسکو نے کہا کہ رومانیہ پاکستان کی قومی ترجیحات کی حمایت کرنے والا عملی اور نتیجہ خیز تعاون کرنے کے لیے تیار ہے جس سے دوطرفہ شراکت داری مزید مضبوط ہوگی۔
ملاقات کے دوران رومانیہ کے سفیر نے پاکستان کی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، مصنوعی ذہانت اور علاقائی ٹیکنالوجی کے فروغ میں مسلسل پیشرفت کو سراہتے ہوئے تعاون کے عزم کو دہرایا۔
اسٹوینیسکو نے پاکستان کو یورپی یونین کی جانب سے مالی امداد والے اہم پروگراموں تک رسائی فراہم کرنے کی پیشکش کی جس میں رومانیہ کا یورپی یونین میں سہولت کار کردار معاون ہوگا۔
ان پروگراموں میں ہورائزن یورپ (€95.5 بلین کا تحقیقی و جدتی منصوبہ)، اراسمس پلس (تعلیمی و علمی تبادلہ) اور ڈیجیٹل یورپ پروگرام شامل ہیں، جو پاکستانی اداروں کو مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، قابل تجدید توانائی، خلائی ٹیکنالوجی، زراعت اور ماحولیاتی جدت کے مشترکہ منصوبوں میں شمولیت کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر مگسی نے رومانیہ کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ ٹیکنالوجی حل اور یونیکورن کمپنیوں کی کامیابی کو سراہا اور پاکستان کی جانب سے رومانیہ کے علم پر مبنی معیشت میں کامیاب منتقلی سے سیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
دونوں ممالک نے طویل المدتی تعاون کے مزید شعبوں کا جائزہ لیا، جن میں یورپی یونین اور خلیجی مارکیٹوں کے لیے سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کے مشترکہ منصوبے، سائبر سیکیورٹی کی صلاحیتوں کی ترقی، رومانیہ کے انوویشن ہبز اور پاکستان کے نیشنل انکیوبیشن سینٹرز کے درمیان تعلیمی و تکنیکی تبادلے، اور ہورائزن یورپ و ڈیجیٹل یورپ کے فریم ورک کے تحت مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT)، اور بلاک چین میں مشترکہ تحقیق شامل ہے۔
ای-گورنمنٹ حل اور ڈیجیٹل عوامی خدمات کی تبدیلی میں تعاون پر بھی بات چیت کی گئی۔

























Comments
Comments are closed.