مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے کھاد ساز صنعت پر کڑی نگرانی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کھاد کا شعبہ کارٹل سازی کے لیے حساس ہے، اور اس شعبے میں بعض کمپنیوں کا رویہ مسابقتی ایکٹ 2010 کی شقوں کی خلاف ورزی کر سکتا ہے۔
مسابقتی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ مسودہ رپورٹ بعنوان ”پاکستان میں کھاد کی صنعت کا مسابقتی جائزہ“ میں کہا گیا ہے کہ ہوموجینیئس (یکساں) مصنوعات جیسے یوریا اور ڈی اے پی میں کارٹل سازی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، خاص طور پر جب مارکیٹ میں کھلاڑیوں کی تعداد کم ہو اور مارکیٹ کا ارتکاز زیادہ ہو۔
رپورٹ کے مطابق، کھاد ساز کمپنیاں ڈیلرز پر دباؤ ڈالتی ہیں کہ وہ یوریا کے ساتھ ڈی اے پی یا سست رفتاری سے فروخت ہونے والے مائیکرو نیوٹرنٹس بھی خریدیں۔ یہ عمل ڈیلرشپ معاہدوں کے تحت ہوتا ہے اور طاقت کے غلط استعمال کے زمرے میں آتا ہے جو شق 3(2)(e) کے تحت قابل اعتراض ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کھاد کی صنعت میں قیمتوں کی ہم آہنگی پائی جاتی ہے، حالانکہ گیس کی قیمتیں مختلف ہوتی ہیں، جو شق 4 کے تحت مسابقتی خلاف ورزی کا سبب بن سکتی ہے۔ رپورٹ میں ایس ای سی پی سے کھاد ساز اداروں کے کاسٹ آڈٹ کرانے کی بھی سفارش کی گئی ہے تاکہ کسی بھی غیر معمولی مالی رویے کو بے نقاب کیا جا سکے۔
مزید برآں، کچھ کھاد کمپنیوں نے سی سی پی سے اپنے ڈیلرشپ معاہدوں پر استثنیٰ حاصل کیا ہے، جیسے ای ایف ای آر ٹی کے پاس فی الوقت ایک درست استثنیٰ موجود ہے، جب کہ دیگر کمپنیوں نے تاحال ایسی کوئی منظوری نہیں لی۔ مسابقتی کمیشن نے تجویز دی ہے کہ تمام کمپنیوں کے معاہدات کا جائزہ لیا جائے اور صرف قانونی تقاضے پورے کرنے والوں کو ہی استثنیٰ دیا جائے۔
مسابقتی کمیشن نے اس رپورٹ کی روشنی میں کھاد ساز صنعت کی سخت نگرانی، معاہدات کا ازسرنو جائزہ اور مارکیٹ میں شفاف مسابقت کو یقینی بنانے کی سفارش کی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.