انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں بہتری کا سلسلہ جاری رہا اور یہ 0.03 فیصد اضافے کے ساتھ مستحکم رہا۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 282.87 روپے کی سطح پر بند ہوا، جو 8 پیسے کی بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔
یاد رہے کہ بدھ کو امریکی ڈالر کے مقابلے روپیہ 282.95 روپے پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر جمعرات کو امریکی ڈالر دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب رہا، جب فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول نے ایک اہم پالیسی فیصلے کے دوران شرح سود سے متعلق اپنے محتاط مؤقف کو برقرار رکھا اور اس بات پر کوئی واضح اشارہ نہیں دیا کہ شرح سود میں کمی کب کی جائے گی۔
امریکی ڈالر رواں سال پہلی بار ماہانہ بنیاد پر مضبوطی کی جانب بڑھ رہا ہے جسے فیڈرل ریزرو کے سخت گیر مؤقف اور امریکی معیشت کی مضبوطی نے سہارا دیا ہے۔ اس کے ساتھ حالیہ تجارتی معاہدوں کے بعد واشنگٹن کی جانب سے ٹیرف سے متعلق غیر یقینی صورتحال میں بھی کمی آنا شروع ہوگئی ہے۔
دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر آخری اطلاعات تک 99.77 پر مستحکم رہی جو کہ گزشتہ سیشن میں حاصل کردہ دو ماہ کی بلند ترین سطح 99.987 سے زیادہ دور نہیں۔
ڈالر انڈیکس رواں ماہ کے دوران 3 فیصد سے زائد اضافے کی جانب گامزن ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر منظم محصولات پالیسی اور رواں سال کے آغاز میں ڈالر کی ممکنہ کمزوری کے خدشات نے کرنسی کو متاثر کیا تھا، جس کے نتیجے میں فلوٹنگ ایکسچینج ریٹ کے آغاز کے بعد سے سال کی بدترین شروعات دیکھنے میں آئی، تاہم اب وہ خدشات کافی حد تک ختم ہو چکے ہیں، جس سے ڈالر کو نئی توانائی ملی ہے۔
ڈالر کی قدر میں حالیہ اضافہ بدھ کو فیڈرل ریزرو کے پالیسی فیصلے کے بعد دیکھنے میں آیا جب چیئرمین پاول نے ایک بار پھر واضح کیا کہ شرح سود میں نرمی کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔
جمعرات کو تیل کی عالمی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جب کہ سرمایہ کار اس خدشے میں مبتلا رہے کہ یوکرین جنگ کے جلد خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں اور روسی تیل خریدنے والے ممالک پر ممکنہ ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیوں کے باعث رسد میں کمی آ سکتی ہے۔
برینٹ کروڈ فیوچرز (ستمبر ڈیلیوری کے لیے)، جو جمعرات کو ختم ہو رہے ہیں، 27 سینٹس یا 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ فی بیرل 73.51 ڈالر پر پہنچ گئے (عالمی وقت کے مطابق رات 12 بج کر 28 منٹ)، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) (ستمبر کے معاہدے کے لیے) 37 سینٹس یا 0.5 فیصد اضافے سے 70.37 ڈالر فی بیرل ہو گئے۔
دونوں بینچ مارک قیمتیں بدھ کے روز 1 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوئی تھیں۔
اسی دوران برینٹ کا زیادہ سرگرم اکتوبر کا معاہدہ 29 سینٹس یا 0.4 فیصد بڑھ کر 72.76 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
























Comments
Comments are closed.