انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں بدھ کو روپیہ 283 کی سطح سے گر کر 282 روپے کی سطح پر واپس آگیا۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ 0.04 فیصد یا 10 پیسے کی بہتری سے 282.95 روپے پر بند ہوا۔
یاد رہے کہ منگل کو روپیہ 283.05 پر بند ہوا تھا۔
بلیک مارکیٹ میں ڈالر کی خرید و فروخت کے خلاف کریک ڈاؤن نے روپے کی قدر کو مستحکم کیا ہے تاہم تاجروں کا کہنا ہے کہ اب یہ خفیہ لین دین تیزی سے اسمارٹ فونز اور ہوم ڈلیوری کے ذریعے جاری ہے۔
اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر پر وضاحت کے لئے فوجی خفیہ ادارے نے ایکسچینج کمپنیوں کے نمائندوں کو طلب کیا جس کے بعد 22 جولائی سے متعدد غیر لائسنس یافتہ ایکسچینج دکانیں بند کردی گئیں، بعد ازاں مالیاتی جرائم اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کام کرنے والے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے چھاپے مارنے شروع کردیے۔
کریک ڈاؤن کے آغاز کے بعد سے روپے نے ڈالر کے مقابلے میں جولائی کے اوائل میں آنے والی شدید کمی سے نمایاں بہتری حاصل کی ہے۔
عالمی سطح پر بدھ کو یورو ایک ماہ کی کم ترین سطح کے قریب مستحکم رہا اور اس ہفتے ہونے والے بھاری نقصانات سے ابھرنے کی کوشش کرتا رہا، کیونکہ سرمایہ کار امریکہ اور یورپی یونین کے تجارتی معاہدے کی قیمت کا اندازہ لگا رہے تھے اور فیڈرل ریزرو اور بینک آف جاپان کی پالیسی میٹنگز کا انتظار کر رہے تھے۔
امریکی اور چینی حکام نے منگل کو 90 دن کی محصولات میں جنگ بندی کی مدت میں توسیع کے لیے کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا، یہ فیصلہ اسٹاک ہوم میں ہونے والے دو روزہ مذاکرات کے بعد کیا گیا، جنہیں دونوں جانب سے ”تعمیری“ قرار دیا گیا۔
تاہم کوئی بڑا بریک تھرو سامنے نہیں آیا، اور امریکی حکام کا کہنا تھا کہ جنگ بندی میں توسیع کا حتمی فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے، کیونکہ موجودہ مدت 12 اگست کو ختم ہورہی ہے۔
ابتدائی کاروبار میں یورو 0.12 فیصد اضافے کے ساتھ 1.1558 ڈالر پر ٹریڈ ہو رہا تھا حالانکہ یہ ہفتے کے پہلے دو دنوں میں گراوٹ کا شکار رہا اور منگل کو ایک ماہ کی کم ترین سطح 1.15185 ڈالر تک پہنچ گیا۔
رواں سال یورو کو اس لیے فائدہ پہنچا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی غیر متوقع تجارتی پالیسیوں کے باعث ڈالر کی چمک ماند پڑگئی جس کے باعث سرمایہ کار متبادل کرنسیوں کی تلاش میں ہیں۔
جاپانی ین قدرے مضبوط ہوا اور ڈالر کے مقابلے میں 148.20 پر آ گیا۔
























Comments
Comments are closed.