وزیرِاعظم شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت میں انتظامی ناکامیوں اور ناقص تعمیراتی کاموں کی متعدد رپورٹس کے بعد کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے چیئرمین کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
سی ڈی اے کے ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وزیرِاعظم نے سی ڈی اے کے چیئرمین محمد علی رندھاوا اور چیف کمشنر اسلام آباد و ممبر ایڈمنسٹریشن طلعت گوندل کو عہدوں سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ کئی شہری منصوبوں میں شکایات اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی کے بعد کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ وزیرِاعظم نے دو سابق چیئرمینوں کے انٹرویوز بھی لیے ہیں جو ممکنہ متبادل امیدوار ہیں۔
وزیرِاعظم نے سرینا انڈر پاس اور بزنس فسیلیٹیشن سینٹر منصوبوں میں بے ضابطگیوں کا سخت نوٹس لیا ہے۔ ایل ای ڈی لائٹنگ کی بلنگ میں مبینہ بے قاعدگیوں کی ایک رپورٹ بھی پیش کی گئی، جس میں عوامی خزانے سے ادائیگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ اس کے علاوہ سفارتی انکلیو میں نکاسیٔ آب کے مسائل نے غیر ملکی مشنز کو نقصان پہنچایا، جس پر کئی یورپی سفارت خانوں نے وزیرِاعظم آفس کو تحریری شکایات درج کرائیں۔
طیب اردگان انٹرچینج کے ناقص تعمیراتی معیار پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا، جو حکومتی حکام کے مطابق پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو متاثر کر سکتا ہے۔
ایک علیحدہ رپورٹ میں 50 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبے میں مبینہ خردبرد کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ وزیرِاعظم نے منتخب نمائندوں کے ساتھ سی ڈی اے حکام کے نامناسب رویے پر بھی ناپسندیدگی ظاہر کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رندھاوا اور گوندل کی برطرفی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جلد جاری ہونے کا امکان ہے۔
دونوں عہدیداران سے رابطے کی کوششیں کی گئیں مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.