پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کے روز کاروبار کا اختتام مثبت رجحان پر ہوا، کیونکہ ایس اینڈ پی گلوبل کی جانب سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو ’+CCC‘ سے بڑھا کر ’-B‘ کیے جانے پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 514.62 پوائنٹس (0.37 فیصد) اضافے کے ساتھ 139,207.29 پوائنٹس پر بند ہوا۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی بعد از مارکیٹ رپورٹ کے مطابق انڈیکس میں سب سے زیادہ مثبت کردار اینگرو ہولڈنگز، یو بی ایل، لکی سیمنٹ، میزان بینک، نیشنل بینک، اٹلس ہنڈا اور سسٹمز لمیٹڈ (ایس وائی ایس) نے ادا کیا، جنہوں نے مجموعی طور پر 541 پوائنٹس کا اضآفہ کیا۔
ایک اہم پیش رفت کے طور پر ایس اینڈ پی گلوبل نے جمعرات کے روز پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو ’+CCC‘ سے بڑھا کر ’-B‘ کر دیا اور ملک کو ’مستحکم‘ آؤٹ لک میں شامل کر لیا۔ ایجنسی نے کہا ہے کہ پاکستان کے مالیاتی حالات اور زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام آئی ایم ایف کے تعاون کی بدولت ممکن ہوا۔
بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ایس اینڈ پی کی جانب سے یہ اپ گریڈ، جو اپریل 2025 میں فِچ کی جانب سے ریٹنگ بہتر کیے جانے کے فوراً بعد سامنے آئی ہے، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے، بیرونی قرضوں کی لاگت میں کمی، اور پاکستان کی بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ میں واپسی کے امکانات کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ہی، مارکیٹ کی نظریں اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) پر جمی ہوئی ہیں، جس کا اجلاس بدھ، 30 جولائی 2025 کو متوقع ہے۔
اے ایچ ایل کے مطابق ”ہم توقع کرتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک 50 بیسس پوائنٹس کمی کے ذریعے پالیسی ریٹ کو کم کر کے 10.5 فیصد تک لے آئے گا۔“
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ “چونکہ مہنگائی میں نمایاں کمی آ چکی ہے، بیرونی شعبہ نسبتاً متوازن ہے اور بانڈز کی پیداوار پہلے ہی نیچے کی طرف گامزن ہے، اس لیے مالیاتی نرمی (مانیٹری ایزنگ) کے لیے حالات سازگار دکھائی دیتے ہیں، تاہم کچھ خطرات اب بھی موجود ہیں جو اس رجحان پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
جمعرات کو پی ایس ایکس میں مندی کا رجحان رہا جب بڑھتی ہوئی میکرو اکنامک خدشات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچایا۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور درآمدات میں اضافے کے باعث متوقع روپے کی گراوٹ نے منفی جذبات کو مزید ہوا دی۔ کے ایس ای 100 انڈیکس 561.69 پوائنٹس یا 0.40 فیصد گر کر ایک لاکھ 38 ہزار692 کی سطح پر بند ہوا۔
ہفتہ وار بنیاد پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں 0.44 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر جمعہ کو ایشیائی حصص اپنی بلند سطحوں سے نیچے آگئے، جاپانی مارکیٹس ایک نئی ریکارڈ بلندی سے پیچھے ہٹ گئیں کیونکہ سرمایہ کاروں نے ایک اہم ہفتے سے قبل منافع سمیٹنا شروع کردیا، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف ڈیڈ لائن اور متعدد سینٹرل بینکوں کی میٹنگز شامل ہیں۔
امریکی ڈالر نے ین کے مقابلے میں مضبوطی حاصل کی، جبکہ جاپان کی کرنسی سیاسی غیر یقینی صورتحال سے دباؤ کا شکار رہی کیونکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرِ اعظم شیگیریو ایشیبا مستعفی ہو سکتے ہیں۔
ٹاپکس انڈیکس 0.7 فیصد نیچے آیا، نکی 0.5 فیصد گر گیا۔ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 0.5 فیصد اور چینی بلیو چپس 0.2 فیصد کم ہوئے، جبکہ آسٹریلیا کا ایکویٹی بینچ مارک بھی 0.5 فیصد نیچے آیا۔
اسی وقت، امریکی ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.2 فیصد اضافہ ہوا، جو گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ کی مضبوط کمائی سے تقویت یافتہ ہے۔
ٹیک ہیوی نیسڈیک نے بھی ریکارڈ بلندی حاصل کی۔
ایم ایس سی آئی کا عالمی انڈیکس معمولی 0.1 فیصد گر کر بدستور جمعرات کی تاریخی بلند سطح کے قریب رہا۔
دریں اثناء جمعہ کو انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں مزید مستحکم ہوا اور قدر میں 0.27 فیصد بہتری کے ساتھ بند ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ 283.45 روپے پر بند ہوا، جو پچھلے اختتامی نرخ 284.22 کے مقابلے میں 77 پیسے کا اضافہ ہے۔
آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم کم ہو کر 634.81 ملین رہ گیا، جو گزشتہ سیشن میں 648.80 ملین تھا۔
حصص کی مجموعی مالیت بھی گھٹ کر 24.61 ارب روپے ہو گئی، جو پچھلے کاروباری سیشن میں 28.12 ارب روپے تھی۔
بینک آف پنجاب 50.26 ملین حصص کے ساتھ سب سے زیادہ کاروباری حجم کے حامل ادارے کے طور پر سامنے آیا، اس کے بعد فوجی فوڈز لمیٹڈ 48.88 ملین حصص کے ساتھ دوسرے جبکہ عائشہ اسٹیل ملز 35.59 ملین حصص کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔
جمعہ کو مجموعی طور پر 479 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 211 کے نرخوں میں اضافہ، 236 کے نرخوں میں کمی جبکہ 32 کمپنیوں کے نرخ مستحکم رہے۔






















Comments
Comments are closed.