شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات میں یوکرین تنازع پر روس کے تمام اقدامات کی بلا مشروط حمایت کا اعلان کر دیا۔ شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ ملاقات اتوار کو مشرقی ساحلی شہر وونسان میں ہوئی جہاں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان دوسری اسٹریٹجک بات چیت بھی ہوئی۔
سرگئی لاوروف تین روزہ دورے پر شمالی کوریا میں موجود ہیں۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ روس اور شمالی کوریا کے تعلقات اب ناقابلِ تسخیر جنگی بھائی چارے میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ روسی میڈیا کے مطابق، سرگئی لاوروف نے کم جونگ اُن کا روسی فوج کے لیے دستے بھیجنے پر شکریہ بھی ادا کیا۔
کم جونگ اُن نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی جغرافیائی حالات میں دونوں اتحادیوں کے اقدامات دنیا بھر میں امن و سلامتی کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شمالی کوریا روسی قیادت کی جانب سے یوکرین بحران کے حل کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کی مکمل حمایت اور حوصلہ افزائی کرے گا۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور شمالی کوریا کی وزیر خارجہ چوئے سون ہوئی کے درمیان وونسان میں ہونے والی ملاقات کے بعد جاری مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے باہمی تعاون پر اتفاق کیا۔
رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا نے روس کو نہ صرف 10,000 سے زائد فوجی دستے اور اسلحہ فراہم کیا ہے، بلکہ کم جونگ اُن کی حکومت نے روس کے کورسک ریجن میں تعمیر نو کے کاموں کے لیے 6,000 فوجی انجینئرز اور مزدور بھیجنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔
یہ تمام پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان 2023 میں دستخط شدہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ہو رہی ہے، جس نے باہمی تعلقات کو نئی جہت دی ہے۔

























Comments
Comments are closed.