سندھ کی غیر روایتی سبزیوں (این ٹی ویز) ، جیسے سرسوں کا ساگ، چرائتہ (چولائی)، بتھوے، سہانجنہ کے پھول، گوار پھلی، جنگلی ککڑیاں اور کھمبیاں، کی بحالی محض ماضی کی یادوں کو تازہ کرنے کا عمل نہیں، بلکہ ماہرین کے مطابق یہ مستقبل میں ایک دانشمندانہ سرمایہ کاری ہے، کیونکہ یہ آب و ہوا کی تبدیلی کے بعد بڑھتی ہوئی غذائی قلت کے دور میں سستی اور غذائیت سے بھرپور متبادل فراہم کرتی ہیں۔
خوراک کی ٹیکنالوجی کی ماہر ڈاکٹر آسیہ اکبر پنهور نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ بدین اور ٹھٹھہ کے اضلاع میں کی جانے والی ایک حالیہ تحقیق نے ان مقامی سبزیوں میں دلچسپی کو دوبارہ زندہ کیا ہے، جس نے انہیں ایک غذائیت بخش، مضبوط اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ متبادل کے طور پر اجاگر کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سروے میں دیہی سندھ میں ابھی بھی دستیاب اور استعمال کی جانے والی کئی مقامی سبزیاں سامنے آئیں، لیکن صنعتی زراعت کے رجحان کے باعث یہ سبزیاں پیچھے رہ گئیں۔ حالانکہ یہ سبزیاں وٹامنز، فائبر اور دواؤں کی خصوصیات رکھنے والے اجزاء سے بھرپور ہیں، اور ناقص زمین میں بھی بآسانی اُگتی ہیں، کم پانی لیتی ہیں اور زیادہ نگہداشت کی محتاج نہیں ہوتیں۔
ایک ایسے خطے میں جہاں چھوٹے کسان مہنگی زرعی لاگت اور غیر متوقع موسمی حالات سے پریشان ہیں، یہ سبزیاں ان کے لیے ایک سہارا ثابت ہو سکتی ہیں۔
ڈاکٹر پنهور نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ غیر روایتی سبزیاں مقامی لوگوں میں بہت مقبول ہیں، مگر منڈیوں میں انہیں نظرانداز کیا جاتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ 83 فیصد گھروں میں سرسوں کا ساگ باقاعدگی سے کھایا جاتا ہے اور لوگ اس کے ذائقے، بناوٹ اور رنگت سے مطمئن ہیں۔ اسی طرح کھمبیوں کو بھی بہت سراہا گیا اور خوشبو اور مجموعی قبولیت میں وہ سرفہرست رہیں۔
روایتی طریقوں جیسے اُبالنا، تلنا اور سالن تیار کرنا،ان کے ذریعے پکائی گئی ڈشز نے ذائقے اور خوشبو کے اعتبار سے بہت اچھے نمبر حاصل کیے ہیں۔
غیر روایتی سبزیاں: پالیسی، منڈی اور شہری خوراک سے غائب
اگرچہ دیہی علاقوں میں غیر روایتی سبزیاں مقبول ہیں مگر یہ اب بھی رسمی منڈیوں، زرعی پالیسیوں اور شہری خوراک کے نظام کا حصہ نہیں بن سکیں۔ اس کی بڑی وجہ آگاہی کی کمی، تجارتی تشہیر کا فقدان اور ادارہ جاتی عدم توجہی ہے۔
بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرنے والے خوراک کے ماہرین، محققین اور جدید طرز کے کاشتکاروں نے مطالبہ کیا کہ ان سبزیوں کی غذائی افادیت اور ذائقہ دار پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لیے پالیسی سازی اور کمیونٹی سطح پر اقدامات کیے جائیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسانوں اور خواتین کاروباری افراد کو ان سبزیوں کی کاشت، دیکھ بھال اور کٹائی کے بعد سنبھالنے کے طریقوں کی تربیت دینا بہت ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسکولوں، کینٹینوں اور شہری گھروں میں بھی ان سبزیوں کو متعارف کرایا جانا چاہیے۔
یہ ”جنگلی سبزیاں“ یا ”بھولی بسری سبزیاں“، جو کبھی دیہی کھانوں کا لازمی جزو ہوا کرتی تھیں، اب ایک شاندار واپسی کے لئے تیار ہیں۔
آج کے کمزور اور ناپائیدار غذائی نظام میں یہ سبزیاں صرف ثقافتی ورثہ نہیں بلکہ عملی طور پر بقا کا ذریعہ ہیں۔ یہ وہاں بھی اگ سکتی ہیں جہاں تجارتی فصلیں ناکام ہو جائیں، یہ کم وسائل والے علاقوں میں بنیادی غذائیت مہیا کرتی ہیں اور مقامی سطح پر کٹائی اور تیاری کے عمل سے منسلک خواتین اور چھوٹے کسانوں کے لیے معیشت میں نئی راہیں کھول سکتی ہیں۔
تاہم ان سبزیوں کا استعمال محدود ہے، خاص طور پر شہری علاقوں میں جہاں خوراک کا انحصار چند مخصوص تجارتی اجناس پر بڑھتا جا رہا ہے۔ اس غذائی خلا کی قیمت صرف صحت کی صورت میں نہیں بلکہ حیاتیاتی تنوع اور مقامی خود کفالت کی صورت میں بھی ادا کی جا رہی ہے۔
معاشی ترغیب
جدید طرز کے کاشتکار سید ضرار شاہ کا کہنا تھا کہ یہ سبزیاں مہنگی نہیں ہوتیں اور شہری علاقوں میں صحت کا خیال رکھنے والے افراد کے لیے مزیدار اور غذائیت سے بھرپور کھانے تیار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دیہی اور غریب خاندان ان سبزیوں کو نہ صرف کھاتے ہیں بلکہ بیچنے کے لیے بھی اگاتے ہیں۔ یہ سبزیاں سستے داموں ٹھیلوں پر فروخت ہوتی ہیں، لیکن اگر انہیں کراچی، لاہور یا دیگر بڑے شہروں کی سپر مارکیٹوں میں رکھا جائے تو ان کی قیمتیں کافی بڑھ جاتی ہیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ شہری افراد بھی اپنے گھروں یا باغیچوں میں ان سبزیوں کی کاشت کریں۔ ان کا اندازہ تھا کہ کراچی یا دیگر بڑے شہروں کے مضافات میں اگر ایک ایکڑ زمین پر یہ سبزیاں اگائی جائیں اور سپر مارکیٹوں میں فروخت کی جائیں تو 20 سے 30 لاکھ روپے تک کی آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ نامیاتی خوراک کے شوقین افراد یا چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والے کسان ان نظر انداز کی جانے والی سبزیوں میں سرمایہ کاری کر کے اچھا منافع کما سکتے ہیں۔
سندھ کے کھیت صرف زمین کے ٹکڑے نہیں بلکہ بقا، حوصلے اور روزی کی کہانیاں سناتے ہیں۔ یہ بھولی بسری سبزیاں جھاڑ جھنکار نہیں، بلکہ دانائی کی علامت ہیں۔ اس غیر یقینی دور میں شاید خوراک کا مستقبل ہمارے سامنے ہی موجود ہے، بس پہچاننے کی دیر ہے۔

























Comments
Comments are closed.