پرائیویٹائزیشن کمیشن نے ہفتہ کے روز وضاحت کی ہے کہ نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری کے لیے تاحال کوئی بیس پرائس (کم از کم قیمت) مقرر نہیں کی گئی، اور یہ قیمت صرف بولی کے وقت ہی طے کی جا سکتی ہے۔
ایک پریس بیان میں کمیشن نے واضح کیا کہ 27 جون کو پریس کے ایک حصے میں شائع ہونے والی ایک خبر گمراہ کن ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حکومت نے روزویلٹ ہوٹل کی فروخت کے لیے 10 کروڑ ڈالر کی بیس پرائس مقرر کر دی ہے۔
کمیشن نے وضاحت کی کہ ابھی تک نجکاری کے عمل کے لیے کوئی بیس پرائس طے نہیں ہوئی، اور یہ صرف نیلامی کے وقت ہی طے کی جائے گی۔
اس خبر میں وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا، جنہوں نے معاہدے پر دستخط کے وقت کامیاب بولی دہندہ کی جانب سے کی جانے والی ممکنہ ابتدائی جزوی ادائیگی کا حوالہ دیا تھا، جو رواں مالی سال کے دوران متوقع ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدن کی رقم اور اس کی وصولی کا وقت، لین دین کے ڈھانچے اور حکومت کی منظوری سے طے پانے والی حتمی شرائط پر منحصر ہوگا۔
کمیشن نے مزید بتایا کہ اس سودے کے لین دین کے ڈھانچے کو حتمی شکل دینا آئندہ سی سی او پی (کابینہ کمیٹی برائے نجکاری) اجلاس میں زیر غور آئے گا۔






















Comments
Comments are closed.