سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے پیر کے روز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو خبردار کیا کہ وہ فنانس بل 26-2025 کی حتمی منظوری کے دوران صوبوں کے دائرہ اختیار میں مداخلت سے گریز کرے۔
یہ اجلاس چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جو فنانس بل کے جائزے کے لیے مسلسل چوتھا اجلاس تھا۔ فنانس بل میں سالانہ بجٹ اسٹیٹمنٹ بھی شامل ہے جو 10 جون کو آئین کے آرٹیکل 73 کے تحت سینیٹ میں پیش کی گئی تھی۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے واضح کیا کہ ایف بی آر مختلف شقوں کے ذریعے خدمات (سروسز) کو فنانس بل 26-2025 میں شامل کر کے صوبوں کے دائرہ اختیار میں غیر قانونی طور پر مداخلت کر رہا ہے۔ سندھ ریونیو بورڈ (ایس آر بی) نے اس حوالے سے فنانس بل پر کئی اعتراضات جمع کرائے ہیں۔
ایف بی آر کے ممبر ان لینڈ ریونیو (پالیسی) ڈاکٹر نجیب احمد نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ سابق قبائلی علاقوں میں سیلز ٹیکس چھوٹ کو مرحلہ وار ختم کرنے کا معاہدہ ایف بی آر اور آئی ایم ایف کے درمیان طے پا چکا ہے، جس کے تحت آئندہ مالی سال سے 10 فیصد جی ایس ٹی لاگو ہوگا جو بتدریج 18 فیصد تک لے جایا جائے گا۔
سینیٹر شبلی فراز نے سوال اٹھایا کہ ان علاقوں میں ٹیکس چھوٹ نے اب تک کون سے نمایاں فوائد دیے؟ نہ سرمایہ کاری آئی اور نہ ہی روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔
کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اس معاملے پر بریفنگ دیں گے۔
اجلاس میں سینیٹرز فاروق ایچ نائیک، شبلی فراز، انوشہ رحمان، محسن عزیز، احمد خان، منظور احمد، محمد عبدالقادر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے وزیر خزانہ کی مسلسل شرکت اور ان کے مؤثر کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کے شفاف مالیاتی اصلاحات کے عزم کا اظہار ہے۔
سینیٹر انوشہ رحمان نے ای کامرس پلیٹ فارمز پر ریگولیشن کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے نوجوان اور خواتین جو گھر سے روزگار کما رہے ہیں، ان پر بوجھ نہ ڈالا جائے۔ صرف وہ پلیٹ فارمز رجسٹر کیے جائیں جن کا کاروبار 2 کروڑ روپے سالانہ سے زائد ہو۔
سینیٹر محسن عزیز نے ای بلنگ نظام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ملایشیا نے اس پر تین سال پہلے مرحلہ وار عمل درآمد شروع کیا تھا، ہمیں بھی اپنی تیاری کا جائزہ لینا ہوگا۔
کمیٹی نے وفاقی بجٹ 2005 کی مختلف شقوں، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (ٹیکس آن سروسز) 2001 اور پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 پر بھی غور کیا۔ اجلاس میں ایک اہم انکشاف سامنے آیا کہ کئی سرکاری ادارے اربوں روپے قومی خزانے میں منتقل کرنے کے بجائے خود سرمایہ کاری میں لگا رہے ہیں اور منافع کما رہے ہیں، جبکہ حکومت بینکوں سے سود پر قرض لے رہی ہے۔
سینیٹر انوشہ رحمان نے اس عمل پر شدید تنقید کی اور کمیٹی نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزارت خزانہ کو ہدایت دی کہ ایسے تمام اداروں کی مکمل مالی تفصیلات، سرمایہ کاری کی فہرست، حاصل شدہ منافع اور قانونی جواز فراہم کیا جائے۔
کمیٹی نے فنانس بل 2025 میں مجوزہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کی وہ شق بھی منظور کی جس کے تحت جائیداد کی پہلی خریداری پر ایف ای ڈی ختم کی جا رہی ہے۔
کمیٹی کا اگلا اجلاس منگل کو ہو گا جس میں وزیر خزانہ ٹیکس چھوٹ کی پالیسیوں اور ادارہ جاتی مالی معاملات پر مزید وضاحت دیں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.