BR100 Decreased By (-1.91%)
BR30 Decreased By (-2.34%)
KSE100 Decreased By (-1.54%)
KSE30 Decreased By (-1.69%)
BAFL 56.20 Decreased By ▼ -0.53 (-0.93%)
BIPL 26.77 Decreased By ▼ -0.21 (-0.78%)
BOP 32.98 Decreased By ▼ -0.77 (-2.28%)
CNERGY 10.10 Increased By ▲ 0.22 (2.23%)
DFML 17.72 Decreased By ▼ -0.28 (-1.56%)
DGKC 196.67 Decreased By ▼ -8.26 (-4.03%)
FABL 98.98 Decreased By ▼ -1.12 (-1.12%)
FCCL 51.25 Decreased By ▼ -1.84 (-3.47%)
FFL 16.18 Decreased By ▼ -0.34 (-2.06%)
GGL 24.99 Increased By ▲ 0.15 (0.6%)
HBL 295.49 Decreased By ▼ -4.33 (-1.44%)
HUBC 214.18 Decreased By ▼ -2.90 (-1.34%)
HUMNL 10.36 Decreased By ▼ -0.25 (-2.36%)
KEL 7.06 Decreased By ▼ -0.16 (-2.22%)
LOTCHEM 29.12 Decreased By ▼ -0.19 (-0.65%)
MLCF 88.82 Decreased By ▼ -3.34 (-3.62%)
OGDC 311.95 Decreased By ▼ -4.34 (-1.37%)
PAEL 40.99 Decreased By ▼ -1.05 (-2.5%)
PIBTL 15.96 Decreased By ▼ -0.45 (-2.74%)
PIOC 282.84 Decreased By ▼ -17.40 (-5.8%)
PPL 212.66 Decreased By ▼ -4.18 (-1.93%)
PRL 52.54 Increased By ▲ 1.68 (3.3%)
SNGP 99.36 Decreased By ▼ -2.36 (-2.32%)
SSGC 25.10 Decreased By ▼ -1.88 (-6.97%)
TELE 8.32 Decreased By ▼ -0.33 (-3.82%)
TPLP 13.22 Decreased By ▼ -0.17 (-1.27%)
TRG 56.89 Decreased By ▼ -2.37 (-4%)
UNITY 9.94 Decreased By ▼ -0.36 (-3.5%)
WTL 1.22 Decreased By ▼ -0.01 (-0.81%)

تجارتی تنظیموں کے قواعد 2013 میں جامع اصلاحات کے لیے وزارت تجارت کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریڈ آرگنائزیشنز (ڈی جی ٹی او) نے ملک گیر مشاورتی و آگاہی سیشنز کا آغاز کر دیا ہے۔ ان سیشنز کا مقصد تجارت سے متعلقہ گورننس نظام میں شمولیت، صنفی مساوات، اور نچلی سطح کی نمائندگی کو یقینی بنانا ہے۔

یہ مشاورتی عمل فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے، جو ملک بھر کی رجسٹرڈ تجارتی تنظیموں کی نمائندہ اعلیٰ تنظیم ہے۔

ڈی جی ٹی او کا یہ اقدام معاشی پالیسی سازی اور ریگولیٹری اصلاحات کے سلسلے میں ایک اہم موڑ ہے، جس کا مقصد خواتین کاروباری شخصیات، چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں، اور علاقائی سطح پر پسماندہ طبقات کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا ہے۔ یہ عمل پاکستان کے پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز)، بالخصوص ہدف 5 (صنفی مساوات)، ہدف 8 (شائستہ روزگار اور معاشی ترقی)، اور ہدف 16 (قانون و انصاف پر مبنی مضبوط ادارے) سے ہم آہنگ ہے۔

مشاورتی سیشنز 3 بڑے شہروں میں منعقد ہوں گے:

1 . کراچی (16 جون 2025) – ایف پی سی سی آئی ہیڈ آفس میں سندھ اور بلوچستان کی تنظیمیں شرکت کریں گی۔ 2. لاہور (18 جون 2025) – ایف پی سی سی آئی ریجنل آفس میں پنجاب کی تجارتی تنظیمیں مدعو ہوں گی۔ 3. اسلام آباد (19 جون 2025) – ایف پی سی سی آئی کیپیٹل آفس میں اسلام آباد اور خیبر پختونخوا کی تنظیموں کی مشاورت کی جائے گی۔

ان سیشنز میں ڈیجیٹل ذرائع سے بھی شرکت ممکن ہوگی تاکہ دور دراز یا وسائل سے محروم علاقوں کی آوازیں بھی سنی جا سکیں۔ یہ ماڈل جامع مشاورت کو یقینی بناتا ہے۔

ڈی جی ٹی او کے مطابق یہ اصلاحات صرف قانونی ترامیم نہیں بلکہ کاروباری ماحول میں شفافیت، شمولیت، اور انصاف کو فروغ دینے کا عملی اقدام ہیں۔ نئے قواعد نہ صرف کمپنیز ایکٹ 2017 کے ساتھ ہم آہنگ ہوں گے بلکہ تجارتی اداروں کی شفافیت اور احتساب کو بھی مضبوط بنائیں گے۔

اصلاح شدہ قواعد میں ایس ایم ای، خواتین کی قیادت میں چلنے والے کاروبار، اور غیر رسمی معیشت کے لیے مؤثر نمائندگی، آن لائن لائسنسنگ، انتخابی نگرانی، اور حقیقی وقت میں تعمیل کے ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات شامل ہوں گے، تاکہ ایک جدید، شفاف اور سب کے لیے قابلِ رسائی تجارتی نظم قائم کیا جا سکے۔

Comments

Comments are closed.