ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں معمولی کمی
انٹربینک مارکیٹ میں جمعہ کے روز ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 0.1 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
کاروبار کے اختتام پر امریکی کرنسی کے مقابلے میں روپیہ 282.96 روپے پر بند ہوا، جس سے روپے کی قدر میں 29 پیسے کی کمی ظاہر ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ جمعرات کو روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 282.67 روپے پر بند ہوا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کی خبر کے بعد کرنسی مارکیٹس نے اچانک رخ بدلا، اور محفوظ تصور کی جانے والی کرنسیوں—جاپانی ین، سوئس فرانک—کے ساتھ امریکی ڈالر میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی۔
دو امریکی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کردیے ہیں،تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی میں امریکہ کی کوئی مدد یا شمولیت نہیں ہے۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے شمال مشرقی علاقے میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ایک اشاریہ جو امریکی ڈالر کی قدر کو چھ دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں ماپتا ہے، ابتدائی ایشیائی تجارت میں 0.4 فیصد بڑھ گیا اور آخری بار 98.07 کی سطح پر ریکارڈ کیا گیا۔
ین کے مقابلے میں ڈالر 0.35 فیصد کم ہو کر 143 ین فی ڈالر پر آ گیا، جبکہ سوئس فرانک 0.39 فیصد گِر کر 0.807 فی ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا۔
حساس ایشیائی کرنسیاں جیسے آسٹریلوی ڈالر اور نیوزی لینڈ ڈالر، ہر ایک میں 0.9 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
ہفتے کے آغاز میں امریکی ڈالر انڈیکس کئی سال کی کم ترین سطح پر آ گیا تھا، کیونکہ سرمایہ کار امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ میں وقتی صلح سے متاثر نہیں ہوئے جبکہ توقع سے کم مہنگائی کے اعداد و شمار نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے مزید جارحانہ شرح سود میں کمی کی توقعات کو ہوا دی۔
ڈالر، ین، سوئس فرانک اور یورو کے مقابلے میں ہفتہ وار بنیاد پر کمی کی طرف گامزن ہے۔
تیل کی قیمتوں میں جمعہ کے روز اس وقت نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا جب اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کی، جس سے مشرق وسطیٰ میں تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے۔ تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ 2022 کے بعد ایک روز میں سب سے بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 6.19 ڈالر (تقریباً 8.9 فیصد) اضافے کے بعد 75.55 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی جب کہ دورانِ کاروبار یہ قیمت 78.50 ڈالر تک گئی جو کہ 27 جنوری کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 6.22 ڈالر (یعنی 9.1 فیصد) اضافے کے ساتھ 74.26 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جب کہ اس نے کاروبار کے دوران 77.62 ڈالر کی سطح چھوئی، جو کہ 21 جنوری کے بعد کی بلند ترین قیمت ہے۔
یہ اضافہ عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتوں پر اُس وقت کی یاد دلاتا ہے جب 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد توانائی کی قیمتیں بلند ہو گئی تھیں۔
























Comments
Comments are closed.