BR100 Decreased By (-0.15%)
BR30 Decreased By (-0.74%)
KSE100 Decreased By (-0.41%)
KSE30 Decreased By (-0.67%)
BAFL 58.40 Decreased By ▼ -0.05 (-0.09%)
BIPL 25.55 Increased By ▲ 0.13 (0.51%)
BOP 33.85 Decreased By ▼ -0.40 (-1.17%)
CNERGY 8.15 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
DFML 20.70 Decreased By ▼ -0.26 (-1.24%)
DGKC 197.00 Decreased By ▼ -0.47 (-0.24%)
FABL 89.90 Increased By ▲ 0.39 (0.44%)
FCCL 53.35 Decreased By ▼ -0.54 (-1%)
FFL 17.89 Decreased By ▼ -0.14 (-0.78%)
GGL 20.49 Increased By ▲ 0.69 (3.48%)
HBL 286.50 Increased By ▲ 0.44 (0.15%)
HUBC 213.89 Decreased By ▼ -1.51 (-0.7%)
HUMNL 11.06 Increased By ▲ 0.06 (0.55%)
KEL 8.05 Decreased By ▼ -0.06 (-0.74%)
LOTCHEM 28.12 Increased By ▲ 0.68 (2.48%)
MLCF 87.19 Decreased By ▼ -0.86 (-0.98%)
OGDC 320.75 Decreased By ▼ -3.81 (-1.17%)
PAEL 40.31 Increased By ▲ 0.37 (0.93%)
PIBTL 17.09 Decreased By ▼ -0.23 (-1.33%)
PIOC 276.00 Increased By ▲ 0.54 (0.2%)
PPL 228.40 Decreased By ▼ -4.38 (-1.88%)
PRL 34.59 Decreased By ▼ -0.36 (-1.03%)
SNGP 98.80 Decreased By ▼ -0.81 (-0.81%)
SSGC 26.90 Decreased By ▼ -0.27 (-0.99%)
TELE 8.53 Decreased By ▼ -0.04 (-0.47%)
TPLP 9.29 Increased By ▲ 0.53 (6.05%)
TRG 71.69 Decreased By ▼ -0.06 (-0.08%)
UNITY 11.58 Decreased By ▼ -0.09 (-0.77%)
WTL 1.28 Increased By ▲ 0.02 (1.59%)

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے حکومت سے فوری مطالبہ کیا ہے کہ وہ یارن اور فیبرک کو ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) سے نکال دے، کیونکہ ان کی شمولیت سے ملکی ٹیکسٹائل صنعت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں اور منصفانہ مارکیٹ مقابلہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔

اپٹما ہاؤس لاہور میں منگل کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین اپٹما کامران ارشد نے کہا کہ یارن اور فیبرک کو ای ایف ایس میں شامل کرنے سے مارکیٹ میں غیرمنصفانہ مقابلہ پیدا ہو گیا ہے کیونکہ مقامی صنعت کی مصنوعات پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہے، جبکہ درآمد کنندگان کو ٹیکس اور ڈیوٹی فری سہولت حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کاٹن بروکرز ایسوسی ایشن (پی سی بی اے)، پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) اور دیگر متعدد ٹیکسٹائل ایسوسی ایشنز بھی اپٹما کے اس مطالبے کی حمایت کر رہی ہیں۔

اس موقع پر اپٹما سدرن زون کے چیئرمین نوید احمد، چیئرمین پی سی بی اے خواجہ محمد زبیر، پی سی جی اے کے ڈاکٹر جسو مل، سابق چیئرمین اپٹما یاسین صدیق، آصف انعام اور دیگر بھی موجود تھے۔

کامران ارشد نے کہا کہ مالی سال 25-2024 کے بجٹ میں مقامی ان پٹس پر ای ایف ایس کے تحت سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کر دی گئی ہے، تاہم درآمدی ان پٹس اب بھی سیلز ٹیکس اور ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہیں۔ یہ فرق براہ راست مقامی صنعت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ اگرچہ مقامی ان پٹس پر 18 فیصد سیلز ٹیکس ریفنڈیبل ہوتا ہے، لیکن ریفنڈز میں تاخیر، نامکمل ادائیگی اور مہنگا عمل اسے ناقابل عمل بنا دیتا ہے، خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کے لیے۔ اسی وجہ سے 120 سے زائد اسپننگ ملز اور 800 جننگ فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں، پاور لومز بھی بند ہو رہی ہیں، اور فیصل آباد میں مزدور سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایس ایم ایز کے پاس درآمد کے محدود ذرائع ہوتے ہیں اور وہ ہر سطح پر سیلز ٹیکس ادا کرتے ہیں، جبکہ انہیں ریفنڈ کا صرف 60 سے 70 فیصد ہی ملتا ہے، باقی رقم گزشتہ 4 سے 5 سالوں سے دستی ریویو میں پھنسی ہوئی ہے۔

کامران ارشد نے کہا کہ سستی درآمدی یارن اور فیبرک کی وجہ سے برآمدکنندگان مقامی سپلائرز کے بجائے درآمدی ان پٹس کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے مقامی صنعت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مالی سال 2024 کے مقابلے میں مالی سال 2025 میں صرف کپاس، یارن اور گریج کپڑے کی درآمد میں 1.5 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ برآمدات میں محض 1.4 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 24 میں ان اشیا کی درآمدات 2.19 ارب ڈالر تھیں، جو مالی سال 25 میں بڑھ کر 3.64 ارب ڈالر ہو گئیں۔

چیئرمین اپٹما نے کہا کہ مقامی سپلائیز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنا اور درآمدات کو زیرو ریٹنگ دینا ملکی مفاد کے خلاف پالیسی ہے جو معیشت کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپٹما نے ای ایف ایس کو جون 2024 کی پوزیشن پر بحال کرنے کے لیے حکومت، وزیر خزانہ، ایف بی آر حکام اور آئی ایم ایف نمائندوں سے ملاقاتیں کی ہیں، لیکن آئی ایم ایف نے اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا۔

کامران ارشد کے مطابق اس سلسلے میں وفاقی وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی تاکہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کیے جا سکیں، لیکن یہ اجلاس منعقد نہیں ہو سکا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.