ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں معمولی کمی
انٹر بینک مارکیٹ میں منگل کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ مزید کمزور ہو گیا اور اس کی قدر میں 0.04 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ 282 روپے 17 پیسے پر بند ہوا، جو ڈالر کے مقابلے میں 11 پیسے کی کمی کو ظاہر کرتاہے۔
Rupee's Performance Against US Dollar Since 04 March 2025
پیر کو پاکستانی روپیہ 282.06 کی سطح پر بند ہوا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر، امریکی ڈالر کو منگل کو اپنی پوزیشن بحال کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا کیونکہ سرمایہ کار امریکی ٹیکس اور اخراجات کے بل اور اس کے ملک کے قرضے پر اثرات کے حوالے سے خدشات میں مبتلا ہیں، جس کی وجہ سے امریکی اثاثوں کی طرف رجحان کمزور ہوا ہے۔
گلوبل اسٹاک مارکیٹس اور یورو نے پیر کو اضافہ دیکھا، جب کہ امریکہ میں تعطیل تھی، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپ پر ٹیرف عائد کرنے کو موخر کردیا تھا۔
اب توجہ امریکی سینیٹ میں ٹرمپ کے ٹیکس کٹ بل پر بحث کی جانب مرکوز ہے، جس سے توقع کی جا رہی ہے کہ یہ بل ملک کے قرضے میں اضافہ کرے گا۔
سرمایہ کاروں کی حساسیت ٹرمپ کے ان ٹیکس تجاویز پر زیادہ ہے، خاص طور پر مئی 16 کو موڈیز کی طرف سے امریکی سرکاری کریڈٹ ریٹنگ کی کمی کے بعد۔
گزشتہ چند مہینوں میں امریکی صدر کی عالمی ٹیرف پالیسیوں کی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے سرمایہ کاروں کا اعتماد امریکی اثاثوں پر سے کم ہوا ہے۔
حال ہی میں ٹرمپ نے یورپی یونین سے آنے والی اشیاء پر 50 فیصد ٹیرف کے ارادے سے پیچھے ہٹ گئے، جس سے یورو کی قیمت ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
یورپی سینٹرل بینک کی صدر کرسٹین لاگارڈ نے کہا ہے کہ اگر حکومتیں مالی اور سیکورٹی نظام کو مضبوط کریں تو یورو امریکی ڈالر کا قابل قبول متبادل بن سکتا ہے۔
ڈالر 0.3 فیصد کی کمی کے ساتھ 142.35 ین پر آگیا۔
ڈالر انڈیکس، جو ڈالر کی دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں کارکردگی کو ٹریک کرتا ہے، 0.1 فیصد گر کر مسلسل تیسرے سیشن کے لیے کم رہا۔
تیل کی قیمتوں میں بھی کمی آئی ہے کیونکہ مارکیٹ شرکاء اس امکان پر غور کر رہے ہیں کہ آئندہ ہفتے ہونے والے اوپیک پلس اجلاس میں خام تیل کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
برینٹ کروڈ فیوچرز میں 12 سینٹ یا 0.19 فیصد کی کمی ہوئی اور قیمت 64.62 ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ کی قیمت 15 سینٹ یا 0.24 فیصد گر کر 61.38 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
تیل کی قیمتوں میں معمولی ردوبدل دیکھا گیا، جو کرنسی کی برابری کا ایک کلیدی اشاریہ سمجھی جاتی ہیں، کیونکہ توقعات بڑھتی جا رہی ہیں کہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور اس کے اتحادی اوپیک پلس رواں ہفتے کے اختتام پر ہونے والے اجلاس میں پیداوار میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کریں گے۔
برینٹ خام تیل کے سودے 11 سینٹ (0.2 فیصد) اضافے کے ساتھ فی بیرل 64.85 ڈالر پر پہنچ گئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت میں 6 سینٹ (0.1 فیصد) کا اضافہ ہوا، اور یہ فی بیرل 61.59 ڈالر پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔ یہ اعداد و شمار عالمی معیاری وقت (جی ایم ٹی) کے مطابق صبح 6 بج کر 40 منٹ پر ریکارڈ کیے گئے۔























Comments
Comments are closed.