ایک اقتصادی تھنک ٹینک نے دعویٰ کیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 20-2019 میں 11.6 فیصد سے کم ہو کر 25-2024 میں 10.4 فیصد رہ گیا ہے۔
ڈیکوڈنگ پاکستانز بجٹ ڈائنامکس کے عنوان سے جاری رپورٹ، جو اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ نے پیر کے روز شائع کی، کے مطابق گزشتہ 15 سال کے دوران پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں نمایاں اضافہ ہوا، خاص طور پر 20-2019 سے 25-2024 کے عرصے میں اس میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق، اگرچہ 20-2019 تک ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں معمولی بہتری دیکھنے میں آئی، تاہم 25-2020 کے دوران یہ تناسب دوبارہ کم ہوا، جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ بار بار اصلاحات کے باوجود محصولات میں بہتری کی کوششیں خاطر خواہ نتائج نہیں دے سکیں۔
رپورٹ کے مطابق 20-2019 میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 13.2 فیصد تھا۔
محصولات کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ 15 سال کے دوران مختلف ٹیکس اقسام کی شرح نمو مختلف رہی۔ 10-2009 سے 20-2019 کے دوران ٹیکس محصولات میں مسلسل اضافہ ہوا، جبکہ 20-2019 سے 25-2024 کے دوران اس میں مزید تیزی آئی۔
براہ راست ٹیکسز کی شرح نمو بالواسطہ ٹیکسز سے زیادہ رہی، جس سے آمدنی پر مبنی ٹیکسیشن کی جانب بتدریج منتقلی ظاہر ہوتی ہے۔ 20-2019 سے 25-2024 کے دوران نان ٹیکس آمدن میں معمولی اضافہ ہوا، مگر اس کے بعد کے پانچ سالوں میں اس میں غیر معمولی تیزی آئی، جس کی سالانہ شرح نمو 40 فیصد سے زیادہ رہی۔
ٹیکس اقسام کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ تمام بڑے ٹیکس ذرائع نے 15 سال کے عرصے میں نمایاں ترقی کی۔ کسٹمز ڈیوٹیز میں 15-2014 سے 20-2019 کے دوران تیزی سے اضافہ ہوا، جو 281 ارب روپے سے بڑھ کر 1,000 ارب روپے تک پہنچ گئیں۔
پٹرولیم لیوی، جس میں ابتدائی طور پر معمولی اضافہ ہوا، 20-2019 سے 28-2024 کے دوران انتہائی تیزی سے بڑھی اور 25-2024 تک یہ ایک بڑی آمدنی کا ذریعہ بن چکی ہے۔ انکم ٹیکس محصولات کا سب سے بڑا ذریعہ رہا، جو 25-2024 میں 5,454 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
صوبوں کا وفاقی محاصل میں حصہ گزشتہ 15 سال کے دوران نمایاں طور پر بڑھا، جس کی اوسط سالانہ شرح نمو 17.7 فیصد رہی، جو مجموعی بجٹ کی شرح نمو سے زیادہ ہے۔
مجموعی محاصل کے تناسب سے صوبائی حصہ 10-2009 میں 32.6 فیصد سے بڑھ کر 20-2019 میں 48.5 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچا، تاہم 25-2024 میں یہ کم ہو کر 41.8 فیصد پر آ گیا۔ 10-2009 سے 15-2014 کے دوران اضافے کی وجہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کا اطلاق تھا، جس کے تحت قابل تقسیم محاصل میں صوبوں کا حصہ 43.75 فیصد سے بڑھا کر 57.5 فیصد کر دیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، اگرچہ ٹیکس محصولات میں 768 فیصد اضافہ ہوا، تاہم ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 10 سے 11 فیصد کے درمیان تقریباً جمود کا شکار رہا۔ اس کے برعکس، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع پر انحصار 1,567 فیصد کی شرح سے بڑھا، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حکومت پائیدار ٹیکس اصلاحات کی بجائے مرکزی بینک کی مالی اعانت پر خطرناک حد تک انحصار کر رہی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.