ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی
انٹربینک مارکیٹ میں جمعے کے کاروباری روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 0.02 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں قدر 5 پیسے کم ہونے کے بعد روپیہ 281 روپے 66 پیسے پر بند ہوا۔
یاد رہے کہ جمعرات کو ڈالر 281.61 روپے پر بند ہوا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر ڈالر جمعہ کو امریکی ٹریژری ییلڈز کے ساتھ نیچے آگیا، کیونکہ اس ہفتے جاری ہونے والے امریکی معاشی اعداد و شمار میں توقعات سے کم کارکردگی نے اس سال فیڈرل ریزرو کی جانب سے مزید شرح سود میں کمی کی توقعات کو مضبوط کردیا ہے۔
ہفتے کا آغاز مارکیٹ کے لیے سازگار خبروں کے ساتھ ہوا جن میں امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ میں عارضی صلح سرفہرست رہی جس کے باعث ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تاہم یہ خوشی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور کرنسی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ رک گیا، جس کے بعد کرنسیاں ایک محدود دائرے میں ٹریڈ کرتی رہیں۔
زرمبادلہ کی مارکیٹ میں زیادہ تر سرگرمی ڈالر اور جنوبی کوریائی وون کے درمیان دیکھنے میں آئی، جہاں ڈالر میں دو دن تک مسلسل نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ کمی اس خبر کے بعد سامنے آئی کہ واشنگٹن اور سیول نے رواں ماہ کے آغاز میں ڈالر/وون مارکیٹ پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
امریکی ڈالر آخری اطلاعات کے مطابق 0.14 فیصد کمی کے ساتھ 1,394.70 وان پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
وسیع تر مارکیٹ میں امریکی ڈالر کو دوبارہ سنبھلنے میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ رات گئے جاری ہونے والے اعدادوشمار میں یہ انکشاف ہوا کہ اپریل میں امریکی پروڈیوسر پرائسز توقع کے برخلاف کم ہوگئی ہیں جس کے بعد ڈالر کی قدر میں کمی دیکھی گئی ۔
دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 100.70 پر آگئی، تاہم پیر کو 1.3 فیصد کے نمایاں اضافے کی بدولت یہ ہفتہ وار بنیاد پر 0.3 فیصد کے معمولی منافع کی راہ پر گامزن رہا۔
اب مارکیٹیں دسمبر تک فیڈرل ریزرو کی جانب سے تقریباً 56 بیسس پوائنٹس کی شرح سود میں کمی کو مدنظر رکھ رہی ہیں جو ایک دن قبل 49 بیسس پوائنٹس تھی۔
























Comments
Comments are closed.