BR100 Decreased By (-1.65%)
BR30 Decreased By (-1.26%)
KSE100 Decreased By (-0.9%)
KSE30 Decreased By (-1.65%)
BAFL 58.80 Decreased By ▼ -0.23 (-0.39%)
BIPL 24.10 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.98 Decreased By ▼ -0.72 (-2.27%)
CNERGY 12.10 Increased By ▲ 0.04 (0.33%)
DFML 15.75 Increased By ▲ 0.20 (1.29%)
DGKC 200.10 Decreased By ▼ -3.09 (-1.52%)
FABL 91.90 Decreased By ▼ -1.24 (-1.33%)
FCCL 57.89 Decreased By ▼ -0.82 (-1.4%)
FFL 13.36 Decreased By ▼ -0.11 (-0.82%)
GGL 19.45 Decreased By ▼ -0.46 (-2.31%)
HBL 300.36 Decreased By ▼ -2.40 (-0.79%)
HUBC 201.00 Decreased By ▼ -7.05 (-3.39%)
HUMNL 8.64 Decreased By ▼ -0.05 (-0.58%)
KEL 6.11 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 24.56 Decreased By ▼ -0.26 (-1.05%)
MLCF 100.00 Decreased By ▼ -2.09 (-2.05%)
OGDC 313.25 Decreased By ▼ -2.99 (-0.95%)
PAEL 33.50 Decreased By ▼ -0.52 (-1.53%)
PIBTL 13.18 Decreased By ▼ -0.24 (-1.79%)
PIOC 259.05 Decreased By ▼ -6.39 (-2.41%)
PPL 218.28 Decreased By ▼ -3.02 (-1.36%)
PRL 85.64 Increased By ▲ 1.04 (1.23%)
SNGP 92.19 Decreased By ▼ -1.66 (-1.77%)
SSGC 22.60 Decreased By ▼ -0.34 (-1.48%)
TELE 7.14 Increased By ▲ 0.07 (0.99%)
TPLP 13.40 Increased By ▲ 0.29 (2.21%)
TRG 53.20 Decreased By ▼ -0.83 (-1.54%)
UNITY 8.04 Increased By ▲ 0.14 (1.77%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.08 (8.51%)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کی مینوفیکچرنگ پالیسیوں کو جھٹکا دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ایپل کی مصنوعات بھارت میں بنوانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے ایپل پر زور دیا کہ وہ اپنی مصنوعات کی تیاری امریکہ میں ہی بڑھائے اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرے۔

صدر ٹرمپ نے دوحہ کے دورے کے دوران کہا کہ ایک روز قبل ایپل کے سی ای او ٹِم کُوک سے میری تھوڑی تلخ بات ہوئی۔ میں نے ٹم کک سے کہا کہ میرے دوست میں تمہارے ساتھ بہت اچھا برتاؤ کررہا ہوں، تم 500 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری لارہے ہو،مگر اب سننے میں آرہا ہے کہ تم بھارت میں جگہ جگہ پلانٹ لگا رہے ہو!“

ٹرمپ نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ تم بھارت میں پلانٹ لگاؤ، اگر تم واقعی بھارت کا خیال رکھنا چاہتے ہو تو وہاں ضرور بناؤ، لیکن یاد رکھو بھارت اُن ممالک میں سے ہے جہاں دنیا کے سب سے زیادہ ٹیرف لاگو ہوتے ہیں، وہاں چیزیں بیچنا بے حد مشکل ہے۔

امریکی صدر نے زور دے کر کہا کہ امریکہ نے ایپل کی بھرپور حمایت کی ہے حالانکہ یہ کمپنی اب بھی بڑی حد تک چین پر انحصار کرتی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ میں نے ٹم کُوک سے کہا کہ ہم تمہارے ساتھ بہت اچھا سلوک کررہے ہیں، ہم نے سالوں سے چین میں تمہاری تمام فیکٹریوں کو برداشت کیا ہے،ہمیں تمہارے بھارت میں فیکٹریاں لگانے میں کوئی دلچسپی نہیں، بھارت اپنا خیال خود رکھ سکتا ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایپل اپنی پروڈکشن کو امریکہ میں بڑھانے والا ہے۔

رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں آئی فون کی پروڈکشن میں چین کا حصہ 75 فیصد سے زائد ہے جب کہ بھارت تقریباً 18 فیصد حصہ دار ہے۔

کیپرٹینو بیسڈ ٹیکنالوجی کمپنی جلد از جلد یہ اقدامات کر رہی ہے کہ وہ اپنے امریکہ میں فروخت ہونے والے زیادہ تر آئی فونز کی پروڈکشن 2026 کے آخر تک بھارت کی فیکٹریوں میں منتقل کردے۔

رواں ماہ کے آغاز میں ایپل کے سی ای او نے کہا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ امریکہ میں فروخت ہونے والے زیادہ تر آئی فونز بھارت میں تیار کیے جائیں گے۔

حال ہی میں آئی فون بنانے والی کمپنی نے امریکہ کی درآمدی محصول سے بچنے کے لیے بھارت میں پروڈکشن بڑھا دی ہے۔ مارچ میں، تقریباً 600 ٹن آئی فونز، جن کی مالیت 2 ارب ڈالر ہے، امریکہ بھیجے گئے جو ٹاٹا اور فوکس کان دونوں کے لیے ماہانہ ریکارڈ ہے۔ اس میں فوکس کان کا حصہ اکیلا 1.3 ارب ڈالر کے اسمارٹ فونز کا تھا۔

Comments

Comments are closed.