BR100 Decreased By (-0.25%)
BR30 Decreased By (-0.64%)
KSE100 Decreased By (-0.41%)
KSE30 Decreased By (-0.67%)
BAFL 58.40 Decreased By ▼ -0.05 (-0.09%)
BIPL 25.55 Increased By ▲ 0.13 (0.51%)
BOP 33.85 Decreased By ▼ -0.40 (-1.17%)
CNERGY 8.15 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
DFML 20.70 Decreased By ▼ -0.26 (-1.24%)
DGKC 197.00 Decreased By ▼ -0.47 (-0.24%)
FABL 89.90 Increased By ▲ 0.39 (0.44%)
FCCL 53.35 Decreased By ▼ -0.54 (-1%)
FFL 17.89 Decreased By ▼ -0.14 (-0.78%)
GGL 20.49 Increased By ▲ 0.69 (3.48%)
HBL 286.50 Increased By ▲ 0.44 (0.15%)
HUBC 213.89 Decreased By ▼ -1.51 (-0.7%)
HUMNL 11.06 Increased By ▲ 0.06 (0.55%)
KEL 8.05 Decreased By ▼ -0.06 (-0.74%)
LOTCHEM 28.12 Increased By ▲ 0.68 (2.48%)
MLCF 87.19 Decreased By ▼ -0.86 (-0.98%)
OGDC 320.75 Decreased By ▼ -3.81 (-1.17%)
PAEL 40.31 Increased By ▲ 0.37 (0.93%)
PIBTL 17.09 Decreased By ▼ -0.23 (-1.33%)
PIOC 276.00 Increased By ▲ 0.54 (0.2%)
PPL 228.40 Decreased By ▼ -4.38 (-1.88%)
PRL 34.59 Decreased By ▼ -0.36 (-1.03%)
SNGP 98.80 Decreased By ▼ -0.81 (-0.81%)
SSGC 26.90 Decreased By ▼ -0.27 (-0.99%)
TELE 8.53 Decreased By ▼ -0.04 (-0.47%)
TPLP 9.29 Increased By ▲ 0.53 (6.05%)
TRG 71.69 Decreased By ▼ -0.06 (-0.08%)
UNITY 11.58 Decreased By ▼ -0.09 (-0.77%)
WTL 1.28 Increased By ▲ 0.02 (1.59%)

حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ آئندہ مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کو ختم یا تبدیل نہیں کیا جائے گا، حالانکہ پیر کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں ملک کی بڑی ایکسپورٹ ایسوسی ایشنز اور صنعتکاروں نے اسکیم پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔

ایک سینئر سرکاری اہلکار نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ آئندہ وفاقی بجٹ میں ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کے خاتمے کا کوئی امکان نہیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس کا مقصد آئندہ بجٹ کی تیاری کے لیے مختلف صنعتی و تجارتی ایسوسی ایشنز سے مشاورت کرنا تھا۔ اجلاس میں ٹیکسٹائل، پولٹری، ڈیری، اسٹیل، رئیل اسٹیٹ، اور صارفین کی اشیاء سے متعلقہ چیلنجز اور تجاویز پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں مختلف ایکسپورٹرز اور صنعتکاروں نے بجٹ تجاویز پیش کیں۔ اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر رشید محمود نے صنعتکاروں سے کہا کہ اگر وہ ٹیکس میں ریلیف چاہتے ہیں تو انہیں متبادل ذرائع سے ٹیکس آمدن بڑھانے کی تجاویز بھی دینی ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ”اگر ٹیکس کم کیا جاتا ہے تو اس کمی کو پورا کیسے کیا جائے گا؟“

ڈیری ایسوسی ایشن نے دودھ پر سیلز ٹیکس کو 18 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں دودھ پر ٹیکس نہیں ہوتا، پاکستان میں بھی عالمی معیار کو اپنایا جائے۔ اس پر چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ٹیکس میں کمی کے نتیجے میں ہونے والی آمدنی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ٹھوس تجاویز دی جائیں۔

اسی طرح فروٹ جوسز کونسل کی نمائندہ عتیقہ میر خان نے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ڈی آئی) کو 20 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کرنے کی درخواست کی، اور کہا کہ موجودہ ٹیکس کی وجہ سے دو سال میں فروخت میں 40 فیصد کمی آئی ہے۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے چیئرمین کامران ارشد نے کہا کہ گزشتہ دو سال سے ٹیکسٹائل ایکسپورٹ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم اسکیم کی وجہ سے مقامی صنعت تباہی کے دہانے پر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مقامی کپاس پر 18 فیصد سیلز ٹیکس اور درآمدی کپاس پر ڈیوٹی فری سہولت سے مقامی صنعت غیر مسابقتی ہو چکی ہے۔ اپٹما نے تجویز دی کہ یارن اور فیبرک کو ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کی منفی فہرست میں شامل کیا جائے اور انہیں عام ٹیکس نظام میں واپس لایا جائے۔ مزید برآں، ایڈوانس ٹیکس کو 2.25 فیصد سے کم کر کے 1 فیصد کیا جائے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ملک بھر میں 120 اسپننگ ملیں اور 800 جننگ فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں، جبکہ ٹیکسٹائل برآمدات گزشتہ دو سال سے 16.5 فیصد اور 16.7 فیصد پر رکی ہوئی ہیں۔

ٹاول مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے نمائندے عامر حسن نے ایس آر او 1125 کو بحال کرنے اورایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کی جگہ دوبارہ متعارف کروانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کے غلط استعمال سے مقامی زیرو ریٹنگ کی سہولت ختم ہو گئی ہے جس سے برآمدی صنعت کو شدید مالی نقصان ہوا ہے۔

انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی شق 8 اے کو ختم کیا جائے، جو کہ سپلائی چین میں ٹیکس کی عدم ادائیگی کی صورت میں تمام رجسٹرڈ افراد کو مشترکہ طور پر ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تولیہ برآمدات 2 ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہیں جو کہ ملکی برآمدات کا 18 فیصد ہیں، مگر سیلز ٹیکس ریفنڈز میں 6 ماہ تک کی تاخیر صنعت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.