حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ آئندہ مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کو ختم یا تبدیل نہیں کیا جائے گا، حالانکہ پیر کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں ملک کی بڑی ایکسپورٹ ایسوسی ایشنز اور صنعتکاروں نے اسکیم پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔
ایک سینئر سرکاری اہلکار نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ آئندہ وفاقی بجٹ میں ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کے خاتمے کا کوئی امکان نہیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس کا مقصد آئندہ بجٹ کی تیاری کے لیے مختلف صنعتی و تجارتی ایسوسی ایشنز سے مشاورت کرنا تھا۔ اجلاس میں ٹیکسٹائل، پولٹری، ڈیری، اسٹیل، رئیل اسٹیٹ، اور صارفین کی اشیاء سے متعلقہ چیلنجز اور تجاویز پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں مختلف ایکسپورٹرز اور صنعتکاروں نے بجٹ تجاویز پیش کیں۔ اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر رشید محمود نے صنعتکاروں سے کہا کہ اگر وہ ٹیکس میں ریلیف چاہتے ہیں تو انہیں متبادل ذرائع سے ٹیکس آمدن بڑھانے کی تجاویز بھی دینی ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ”اگر ٹیکس کم کیا جاتا ہے تو اس کمی کو پورا کیسے کیا جائے گا؟“
ڈیری ایسوسی ایشن نے دودھ پر سیلز ٹیکس کو 18 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں دودھ پر ٹیکس نہیں ہوتا، پاکستان میں بھی عالمی معیار کو اپنایا جائے۔ اس پر چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ٹیکس میں کمی کے نتیجے میں ہونے والی آمدنی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ٹھوس تجاویز دی جائیں۔
اسی طرح فروٹ جوسز کونسل کی نمائندہ عتیقہ میر خان نے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ڈی آئی) کو 20 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کرنے کی درخواست کی، اور کہا کہ موجودہ ٹیکس کی وجہ سے دو سال میں فروخت میں 40 فیصد کمی آئی ہے۔
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے چیئرمین کامران ارشد نے کہا کہ گزشتہ دو سال سے ٹیکسٹائل ایکسپورٹ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم اسکیم کی وجہ سے مقامی صنعت تباہی کے دہانے پر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مقامی کپاس پر 18 فیصد سیلز ٹیکس اور درآمدی کپاس پر ڈیوٹی فری سہولت سے مقامی صنعت غیر مسابقتی ہو چکی ہے۔ اپٹما نے تجویز دی کہ یارن اور فیبرک کو ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کی منفی فہرست میں شامل کیا جائے اور انہیں عام ٹیکس نظام میں واپس لایا جائے۔ مزید برآں، ایڈوانس ٹیکس کو 2.25 فیصد سے کم کر کے 1 فیصد کیا جائے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ملک بھر میں 120 اسپننگ ملیں اور 800 جننگ فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں، جبکہ ٹیکسٹائل برآمدات گزشتہ دو سال سے 16.5 فیصد اور 16.7 فیصد پر رکی ہوئی ہیں۔
ٹاول مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے نمائندے عامر حسن نے ایس آر او 1125 کو بحال کرنے اورایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کی جگہ دوبارہ متعارف کروانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کے غلط استعمال سے مقامی زیرو ریٹنگ کی سہولت ختم ہو گئی ہے جس سے برآمدی صنعت کو شدید مالی نقصان ہوا ہے۔
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی شق 8 اے کو ختم کیا جائے، جو کہ سپلائی چین میں ٹیکس کی عدم ادائیگی کی صورت میں تمام رجسٹرڈ افراد کو مشترکہ طور پر ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تولیہ برآمدات 2 ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہیں جو کہ ملکی برآمدات کا 18 فیصد ہیں، مگر سیلز ٹیکس ریفنڈز میں 6 ماہ تک کی تاخیر صنعت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
























Comments
Comments are closed.