ایس او ایز کی کارکردگی: وزیراعظم کی وزارتوں اور ڈویژنز کو مانیٹرنگ سسٹم نافذ کرنے کی ہدایت
- مالی سال 2024 کے دوران ایس او ایز کو مجموعی طور پر 851 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا
ریاستی ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کو درپیش مسلسل مالی اور حکومتی مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے تمام وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ماتحت اداروں اور ایس او ایز کی کارکردگی کی نگرانی کے لیے سخت مانیٹرنگ سسٹم نافذ کریں۔
وزارت خزانہ کی ایک رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024 میں ایس او ایز کو مجموعی طور پر 851 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ یہ پچھلے سال کے مقابلے میں 14.03 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے، تاہم 2014 سے اب تک کے مجموعی نقصانات بہت زیادہ ہیں جو 5.9 ٹریلین روپے تک پہنچ چکے ہیں۔
مالی سال 2024 کے دوران متعدد ایس او ایز کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ سب سے زیادہ نقصان نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو ہوا جو 295.5 ارب روپے رہا، اس کے بعد کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کو 120.4 ارب روپے، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کو 88.7 ارب روپے، پی آئی اے کو 73.5 ارب روپے، پاکستان ریلوے کو 51.3 ارب روپے، سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنی (سیپکو) کو 37 ارب روپے، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کو 34.5 ارب روپے، پاکستان اسٹیل ملز کارپوریشن کو 31.1 ارب روپے، حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کو 22.1 ارب روپے، جنکو-II کو 17.6 ارب روپے، اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کو 15.8 ارب روپے، پاکستان پوسٹ آفس کو 13.4 ارب روپے، ٹرائبل ایریاز الیکٹرک سپلائی کمپنی (ٹیسکو) کو 9.5 ارب روپے، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (جیبکو) کو 8.5 ارب روپے، جینکو تھری کو 7.8 ارب روپے اور دیگر تمام اداروں کو مجموعی طور پر 23.7 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ اب تک ہونے والے مجموعی نقصانات 5,748 ارب روپے کی خطرناک سطح تک پہنچ چکے ہیں، جن میں اکثریت گزشتہ 10 برسوں کے دوران ہوئی ہے۔
وزارتوں اور ڈویژنوں کے تمام سیکریٹریز کو لکھے گئے ایک خط میں وزیر اعظم کے مشیر ڈاکٹر توقیر شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ وفاقی وزارتوں کی جانب سے اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے ایس او ایز اور قانونی اداروں پر نگرانی ناکافی رہی ہے، جس کے نتیجے میں گورننس کی ناکامیاں سامنے آئی ہیں۔ ان میں خریداری کے قواعد کی خلاف ورزیاں، بدعنوانی کے واقعات، بدانتظامی کے خلاف عدم کارروائی، آپریشنل نااہلی، طویل مقدمات کی ناقص پیروی اور سروس کی فراہمی میں مسلسل گراوٹ شامل ہیں۔
مندرجہ بالا صورتحال کے پیشِ نظر وزیر اعظم نے ہدایت دی ہے کہ:(i) متعلقہ وزارتوں کے وفاقی وزراء اور سیکریٹریز اپنے انتظامی اختیار میں آنے والے تمام اداروں بشمول ایس او ایز، خودمختار اداروں اور منسلک محکموں پر بھرپور اور مسلسل نگرانی کو یقینی بنائیں۔
بورڈز میں نامزد کردہ نمائندے اس نگرانی کے عمل کی حمایت کے لیے اپنے اختیارات کو فعال انداز میں استعمال کریں گے۔ موجودہ گورننس کے مسائل کے حل اور ان کے اعادے کی روک تھام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں گے؛ اور(ii) بورڈ اجلاسوں کے لیے قبل از وقت اور بعد از اجلاس بریفنگز کا ایک مربوط نظام متعارف کروایا جائے گا۔
حکومتی نمائندے بورڈ اجلاسوں میں شرکت سے قبل متعلقہ ہدایات حاصل کریں گے اور اجلاس کے بعد بروقت رپورٹنگ یقینی بنائیں گے۔
وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ تمام متعلقہ وفاقی وزراء اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے ہر ماتحت ادارے اور ریاستی ملکیتی ادارے (ایس او ای) کیلئے کارکردگی کے اہم اشاریے (کے پی آئیز) اور مانیٹرنگ فریم ورک مرتب کرنے کو یقینی بنائیں تاکہ کارکردگی کا منظم جائزہ لیا جاسکے اور جوابدہی کو یقینی بنایا جاسکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
























Comments
Comments are closed.