رائٹرز کے ایک سروے کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان پیر کو اپنی پالیسی شرح سود کو 12 فیصد پر برقرار رکھنے جارہا ہے۔ بینک نے گزشتہ پالیسی اجلاس میں شرح سود میں کٹوتیوں کے سلسلے کو غیر متوقع طور پر روکا تھا جس کی وجہ جغرافیائی کشیدگی اور مہنگائی کے امکانات تھے۔
23 اپریل کے حملے کے بعد سے پاکستان اور امریکہ کے قرضوں کے درمیان فرق تقریباً 200 بیسس پوائنٹس بڑھ کر 850 بیسس پوائنٹس سے تجاوز کرگیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ پاکستان کے لیے قرض لینے کی لاگت میں اضافہ ہوگیا ہے۔
14 تجزیہ کاروں اور سرمایہ کاروں پر مشتمل ایک سروے میں سے 9 نے توقع ظاہر کی کہ اسٹیٹ بینک اپنی پالیسی ریٹ کو برقرار رکھے گا۔
تین تجزیہ کاروں نے 50 بیسس پوائنٹس کمی کی توقع ظاہر کی جب کہ دو نے 100 بیسس پوائنٹس کمی کی پیش گوئی کی۔
جون سے مارچ تک، بینک نے شرح سود میں مجموعی طور پر 1,000 بیسس پوائنٹس کی کمی کی — جو 22 فیصد کی بلند ترین سطح سے کم کی گئی — تاہم مارچ میں اسے برقرار رکھا گیا تاکہ امریکی ٹیرف سمیت مہنگائی کے ممکنہ دباؤ سے نمٹا جاسکے۔
اس کے باوجود تجزیہ کار توقع کرتے ہیں کہ بینک رواں سال شرح سود میں کمی کا سلسلہ دوبارہ شروع کرے گا تاکہ قرضوں کی فراہمی کو بڑھایا جائے اور معاشی نمو کو فروغ دیا جا سکے۔
ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس کے سینئر ماہر معاشیات احمد مبین کا کہنا ہے کہ موجودہ غیر یقینی تجارتی صورتحال، مسلسل بلند بنیادی مہنگائی اور آئی ایم ایف کے آئندہ جائزہ کو مدنظر رکھتے ہوئے، اسٹیٹ بینک فی الحال انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی پر قائم رہنے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف 9 مئی کو پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ قرض پروگرام کا جائزہ لے گا اور یہ فیصلہ کرے گا کہ ایک ارب ڈالر جاری کیے جائیں یا نہیں۔ اس اجلاس میں 1.3 ارب ڈالر کے نئے ماحولیاتی لچکدار قرض پر بھی بات چیت کی جائے گی۔
مارچ میں مہنگائی کی شرح 0.7 فیصد تک گرگئی جو تقریباً ایک دہائی میں سب سے کم سطح ہے۔
وزارت خزانہ اپریل کی مہنگائی کی شرح 1.5 فیصد سے 2 فیصد تک ہونے کا تخمینہ لگا رہی ہے جبکہ مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ مالی سال کے اختتام جون تک اوسط مہنگائی 5.5 فیصد سے 7.5 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔
بروکریج ہاؤس عارف حبیب میں ریسرچ کی سربراہ ثنا توفیق نے کہا کہ پیر کو محتاط کمی اقتصادی بحالی کی حمایت کرسکتی ہے، بغیر استحکام کو نقصان پہنچائے، کیونکہ شرح سود اور مہنگائی کے درمیان بڑا فرق ہے اور بہتر مگر کمزور غیر ملکی اکاؤنٹس ہیں۔
المیزان انوسٹمنٹ کی ریسرچ کی سربراہ امرین سورانی نے کہا کہ مانیٹری آسانی کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے سے قبل غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ضروری ہے جو جون تک مرکزی بینک کے ہدف 14 ارب ڈالر تک پہنچنے چاہئیں۔
موجودہ 10.5 ارب ڈالر دو ماہ سے بھی کم عرصے کے لئے درآمدات کا احاطہ کرتا ہے۔



















Comments
Comments are closed.