BR100 Decreased By (-1.49%)
BR30 Decreased By (-1.14%)
KSE100 Decreased By (-0.85%)
KSE30 Decreased By (-1.61%)
BAFL 58.89 Decreased By ▼ -0.14 (-0.24%)
BIPL 24.11 No Change ▼ 0.00 (0%)
BOP 30.91 Decreased By ▼ -0.79 (-2.49%)
CNERGY 12.11 Increased By ▲ 0.05 (0.41%)
DFML 15.84 Increased By ▲ 0.29 (1.86%)
DGKC 200.75 Decreased By ▼ -2.44 (-1.2%)
FABL 92.00 Decreased By ▼ -1.14 (-1.22%)
FCCL 58.21 Decreased By ▼ -0.50 (-0.85%)
FFL 13.40 Decreased By ▼ -0.07 (-0.52%)
GGL 19.12 Decreased By ▼ -0.79 (-3.97%)
HBL 299.50 Decreased By ▼ -3.26 (-1.08%)
HUBC 202.60 Decreased By ▼ -5.45 (-2.62%)
HUMNL 8.62 Decreased By ▼ -0.07 (-0.81%)
KEL 6.10 Decreased By ▼ -0.04 (-0.65%)
LOTCHEM 24.35 Decreased By ▼ -0.47 (-1.89%)
MLCF 100.19 Decreased By ▼ -1.90 (-1.86%)
OGDC 313.80 Decreased By ▼ -2.44 (-0.77%)
PAEL 33.55 Decreased By ▼ -0.47 (-1.38%)
PIBTL 13.23 Decreased By ▼ -0.19 (-1.42%)
PIOC 261.99 Decreased By ▼ -3.45 (-1.3%)
PPL 218.10 Decreased By ▼ -3.20 (-1.45%)
PRL 85.50 Increased By ▲ 0.90 (1.06%)
SNGP 91.82 Decreased By ▼ -2.03 (-2.16%)
SSGC 22.65 Decreased By ▼ -0.29 (-1.26%)
TELE 7.17 Increased By ▲ 0.10 (1.41%)
TPLP 13.15 Increased By ▲ 0.04 (0.31%)
TRG 53.58 Decreased By ▼ -0.45 (-0.83%)
UNITY 8.03 Increased By ▲ 0.13 (1.65%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.08 (8.51%)

یوکرین اور امریکہ کے درمیان بدھ کے روز ایک اہم معاہدے پر دستخط ہوئے جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھرپور انداز میں زور دیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ کو یوکرین کے معدنی وسائل تک ترجیحی رسائی حاصل ہو گی اور یوکرین کی تعمیر نو کے لیے ایک مشترکہ سرمایہ کاری فنڈ قائم کیا جائے گا۔

یہ معاہدہ واشنگٹن میں کئی ماہ کی پیچیدہ بات چیت کے بعد طے پایا، جس میں آخری لمحات تک غیر یقینی صورتحال برقرار رہی۔

اس معاہدے کو یوکرین اور امریکہ کے تعلقات کی بحالی کے تناظر میں مرکزی حیثیت حاصل ہے، خاص طور پر جب سے صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا ہے۔ یوکرینی حکام کو امید ہے کہ یہ معاہدہ روس کے خلاف یوکرین کے دفاع کے لیے امریکی حمایت کو جاری رکھنے میں مددگار ثابت ہو گا۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور یوکرین کی فرسٹ ڈپٹی وزیراعظم یولیا سویریڈینکو نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔ سویریڈینکو نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ امریکہ اس فنڈ میں براہ راست مالی معاونت کرے گا اور ممکنہ طور پر یوکرین کو فضائی دفاعی نظام جیسے نئے امدادی پیکیج بھی فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

امریکہ، روس کے 2022 کے حملے کے بعد سے یوکرین کا سب سے بڑا فوجی معاون رہا ہے اور اب تک 72 ارب ڈالر سے زائد کی امداد فراہم کر چکا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کے اعلان کے موقع پر ایک بار پھر دہرایا کہ امریکہ کو اپنی امداد کے بدلے کچھ حاصل ہونا چاہیے، جس کے تحت یوکرین کے قیمتی معدنیات، خاص طور پر نایاب معدنیات، میں دلچسپی ظاہر کی گئی ہے۔

یوکرین کے پاس ان معدنیات کے وسیع ذخائر ہیں جو الیکٹرانک مصنوعات، برقی گاڑیوں اور فوجی سازوسامان میں استعمال ہوتے ہیں۔ چین اس وقت ان معدنیات کی عالمی فراہمی میں سب سے آگے ہے، جس کے ساتھ امریکہ کا تجارتی تنازع جاری ہے۔

یوکرین نے واضح کیا ہے کہ معدنیات نکالنے کا فیصلہ اس کا خودمختار حق ہے اور زمین کے نیچے موجود وسائل یوکرین کی ملکیت رہیں گے۔

معاہدے میں یہ بھی شامل ہے کہ یوکرین کو امریکہ کی ماضی کی فوجی امداد کا قرض ادا نہیں کرنا ہو گا، جو کہ مذاکرات میں یوکرین کا ایک بڑا مطالبہ تھا۔

معاہدے میں یوکرین کے لیے امریکی سلامتی کی کوئی باقاعدہ ضمانت شامل نہیں ہے، اگرچہ اس کی ابتدائی خواہش یہی تھی۔

علاوہ ازیں، یوکرین نے یورپی اتحادیوں سے ایک بین الاقوامی فورس کے قیام پر بات کی ہے جو روس کے ساتھ کسی امن معاہدے کی صورت میں یوکرین کی سیکیورٹی کو یقینی بنا سکے۔

یوکرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ دنیا بھر کے شراکت داروں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ یوکرین کے ساتھ دہائیوں پر محیط طویل مدتی شراکت داری نہ صرف ممکن بلکہ قابلِ اعتماد ہے۔

Comments

Comments are closed.