وزیر خزانہ امریکی ٹیرف کے خاتمے کے بارے میں پرامید
- پاکستان جلد ہی ایک اعلیٰ سطح وفد امریکہ بھیجے گا تاکہ ٹیرف اور تجارتی امور پر بات چیت کی جا سکے، محمد اورنگزیب
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ کی جانب سے عائد کردہ 29 فیصد باہمی ٹیرف جلد واپس لے لیا جائے گا۔ فیڈریشن ہاؤس میں ایک پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان جلد ہی ایک اعلیٰ سطح وفد امریکہ بھیجے گا تاکہ ٹیرف اور تجارتی امور پر بات چیت کی جا سکے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے زور دیا کہ امریکہ کے ساتھ موجودہ مسئلہ ٹیرف نہیں بلکہ تجارتی عدم توازن ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ موجودہ تجارتی تعلقات کے مطابق پاکستان 5 ارب ڈالر کی برآمدات کرتا ہے جبکہ صرف 2.1 ارب ڈالر کی درآمدات کرتا ہے۔ یہ وفد سویابین، کپاس اور ایک اور شعبے کو شامل کر کے تجارتی توازن کو بہتر بنانے کی کوشش کرے گا۔
وزیر خزانہ نے بجلی کے نرخوں کے بارے میں بھی مثبت خبر دی کہ پاور ٹیرف میں کمی آچکی ہے اور جولائی 2025 میں مزید کمی کا اعلان کیا جائے گا۔
آئندہ بجٹ میں کسی شعبے کو ٹیکس استثنیٰ نہیں ملے گا
محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ آئندہ بجٹ میں کسی بھی شعبے کو ٹیکس میں استثنیٰ نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص کو ٹیکس دینا ہوگا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت تنخواہ دار طبقہ مجموعی انکم ٹیکس ریونیو کا 70 فیصد ادا کر رہا ہے، اور نئے بجٹ میں اس طبقے کو ریلیف دیا جائے گا۔
وزیر خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ اپنے حالیہ دورۂ امریکہ کے دوران انہوں نے 70 سے زائد اہم ملاقاتیں کیں، جن میں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف)، عالمی بینک، چین اور سعودی عرب کے نمائندوں سے بھی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا، ان تمام اداروں نے پاکستان کی معیشت میں بہتری کو تسلیم کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر 14 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں رہنے کی توقع ہے۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی 5 مئی کو شرح سود میں مزید کمی سے متعلق اجلاس کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ 24واں آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کا آخری پروگرام ہوگا۔
انہوں نے قومی معیشت میں مختلف شعبوں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری اب بھی سب سے اہم شعبہ ہے، جبکہ آئی ٹی، زراعت، فارماسیوٹیکل، فرنیچر اور آٹو سیکٹر بھی برآمدات میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اس وقت 3.2 ارب ڈالر ہیں، جنہیں آئندہ برسوں میں 8 ارب ڈالر تک لے جایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ریکوڈک مائننگ منصوبے کے حوالے سے ایگزم بینک اور دیگر مالیاتی اداروں سے بات چیت جاری ہے، جس کی سالانہ برآمدی صلاحیت 2.8 ارب ڈالر ہے۔
مزید برآں، انہوں نے بتایا کہ ویب 3.0 اور بلاک چین ٹیکنالوجی پر کام جاری ہے اور اس حوالے سے قانونی فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے۔
بھارت کے لیے وسطی ایشیا کی طرف ٹرانزٹ راہداری بند کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ کسی ملک کے حق میں نہیں ہوتی اور اس قسم کے اقدامات بھارتی ٹرانزٹ تجارت کو ضرور نقصان پہنچائیں گے۔
قبل ازیں، ایف پی سی سی آئی کے قائم مقام صدر ثاقب فیاض نے سوال اٹھایا کہ مثبت معاشی اشاریوں کے باوجود شرح سود میں مزید کمی کیوں نہیں کی جا رہی۔
انہوں نے کہا کہ شرح سود میں زیادہ کمی کیوں نہیں ہو رہی؟ کیا موجودہ شرح کو برقرار رکھنا معیشت اور ادائیگیوں کے توازن کے لیے ضروری ہے؟
ثاقب فیاض نے بتایا کہ گزشتہ بجٹ میں برآمدی شعبے کو فکسڈ ٹیکس نظام سے نکال دیا گیا، جس کے باعث اس شعبے کو مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا، ”نارمل ٹیکس نظام نے برآمدی شعبے کو نقصان پہنچایا ہے۔ اضافی ٹیکسز دراصل ٹیکس وصولی میں کمی کا سبب بن رہے ہیں، اور جعلی انوائسز کا مسئلہ بڑھ رہا ہے۔“
ایف پی سی سی آئی کے رہنما نے حکومت اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل کی کوششوں کو سراہا اور بتایا کہ مالی سال 2025 کی پہلی نو ماہ میں برآمدات میں 7.7 فیصد اضافہ ہو کر 24.6 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ تجارتی خسارہ 4.5 فیصد بڑھ گیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ہم بیرونِ ملک پاکستانیوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے 28 ارب ڈالر کی ترسیلات بھجوا کر اس خسارے کو قابو میں رکھنے میں مدد کی۔ آئندہ بجٹ میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے خصوصی پیکیج شامل کیا جانا چاہیے۔“
دریں اثناء، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر آصف سخی نے وزیر اعظم اور چیئرمین ایف بی آر سے مطالبہ کیا کہ فیس لیس اسیسمنٹ سسٹم کے پانچ ماہ کی کارکردگی کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔ انہوں نے تجویز دی کہ گرین چینل کے تحت 50 فیصد کلیئرنس کی ریونیو جانچ پڑتال کی جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
























Comments
Comments are closed.