بھارت کے لوگ عمومی طور پر امن پسند ہوتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر سے کنیاکماری تک، زیادہ تر بھارتی ”اہنسا“ (عدم تشدد) یعنی گاندھی کے فلسفے سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔
موہن داس کرمچند گاندھی اور جواہر لال نہرو نے برطانوی سامراج کے خلاف جدوجہد میں محمد علی جناح اور مسلم لیگ کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ مل کر کبھی بھی عوام یا ہجوم کو ”گورے حکمرانوں“ پر حملہ کرنے یا انہیں قتل کرنے کے لیے نہیں اکسایا۔ اگرچہ ان کے درمیان برصغیر کی تقسیم پر اختلافات تھے مگر عدم تشدد سے متعلق ان کے درمیان مکمل اتفاق تھا اور انہوں نے تشدد کو یکسر مسترد کردیا تھا۔
اگر بھارتی عوام واقعی امن پسند ہیں تو پھر انہوں نے خود کو اور اپنی بڑی اقلیتوں کو نئی دہلی میں آر ایس ایس ذہنیت رکھنے والے حکمرانوں کے رحم و کرم پر کیوں چھوڑ دیا؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ نئی دہلی کی حکومت فسادی ہے۔ اس کا ریاستی نظام اور اس کی ایجنسیاں تخریبی انداز میں کام کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت تک نہ تھی جب تک مرکز میں حکومت کانگریس کے ہاتھ میں تھی۔ نہرو کا ’جینے دو اور جینے دو‘ کا فلسفہ اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کے تحفظ کا ضامن تھا۔
اندرا گاندھی، جو نہرو کی بیٹی تھیں، نے پاکستان کو کمزور کرنے اور اسے توڑنے کی بھرپور کوششوں کے ذریعے کانگریس پارٹی کے رویے کو ناقابلِ واپسی حد تک بدل دیا۔ ان کے اقدامات نے آر ایس ایس کی فرقہ وارانہ سرگرمیوں کو مزید ہوا دی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایک مضبوط بنیاد اس وقت ملی جب اندرا گاندھی نے بھنڈرانوالہ کے تعاقب میں ”گولڈن ٹیمپل“ پر حملے کا فیصلہ کیا۔ بھنڈرانوالہ ایک جنگجو مزاج سیاستدان تھے، جو سکھوں کے حقوق کے لیے کھڑے تھے جن میں ایک آزاد خالصتان کے قیام کی خواہش بھی شامل تھی۔
پنجاب، دہلی اور بھارت کے دیگر علاقوں میں سکھوں کا قتلِ عام جن سنگھیوں کے ہاتھوں ہوا، وہ آر ایس ایس کے شدت پسند غنڈوں کی ایک منصوبہ بند کارروائی تھی۔ انہوں نے سکھ خواتین کی عصمت دری کی، انہیں اذیتیں دیں، اور سینکڑوں سکھ مرد، خواتین اور بچوں کو قتل کیا۔ اندرا گاندھی کے بااعتماد ذاتی محافظ، بینت سنگھ نے بدلہ چکایا۔ اس نے اتنی گولیاں چلائیں کہ اندرا گاندھی کے بچنے کا امکان ختم ہو گیا۔ وہ اسپتال میں دم توڑ گئیں۔
اندرا گاندھی مشرقی پاکستان میں ہزاروں معصوم بنگالیوں، بہاریوں اور دوسری اقلیتوں کے قتل کی ذمہ دار تھیں۔ جو لوگ طاقت کے زور پر جیتے ہیں وہ آخرکار اسی طاقت کا شکار بن جاتے ہیں۔ بات ختم ہوئی۔
1947 سے 1980 کی دہائی تک بھارت میں کبھی کبھار فرقہ وارانہ فسادات ہوتے تھے، یہ فسادات معمول کی بنیاد پر اور نہ ہی ملک گیر سطح پر ہوتے۔ یہ فسادات زیادہ تر اتر پردیش، بہار اور حیدرآباد دکن تک محدود تھے۔
مگر 1992 میں نرسمہا راؤ نے بی جے پی اور اس کی اتحادی شدت پسند تنظیموں کو تاریخی بابری مسجد گرانے کی اجازت دی، تو بھارت میں پرامن بقائے باہمی کا پورا سماجی تانا بانا بکھر گیا۔ اس واقعے کے بعد حالات پہلے جیسے کبھی نہیں رہے۔ بھارت، جو کبھی ایک سیکولر ریاست تھا، آہستہ آہستہ ایک سخت گیر، عدم برداشت اور جارح مزاج ہندو ریاست میں تبدیل ہونے لگا۔ یہ تبدیلی خود ہندو مت کے خلاف تھی جو کہ دیگر مذاہب کی طرح امن اور رواداری کا مذہب ہے۔
نریندر مودی کی شکل میں برائی کا آغاز ہوا — پہلے گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر، اور اب گزشتہ ایک دہائی سے بھارت کے وزیر اعظم کے طور پر۔ اس شخص کی سوچ شیطانی ہے، چہرہ راون جیسا، اور انداز ہٹلر و مسولینی جیسا—ایک ساتھ! وہ جارحیت پسند شخص ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی میڈیا نے اسے ”گجرات کا قصائی“ قرار دیا۔ وہی شخص جسے مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث ہونے کی وجہ سے امریکہ نے ویزہ دینے سے انکار کر دیا تھا، آج اسی امریکہ کی دعوتیں قبول کر رہا ہے—کیونکہ اب امریکہ کو چین کے بڑھتے اثر و رسوخ سے خوف لاحق ہے۔
اگر پلوامہ کا واقعہ بھارت کو سبق سکھانے کے لیے کافی نہیں تھا تو مودی سرکار نے پہلگام میں بے شرمی سے بے گناہ سیاحوں پر دہشت گرد حملہ کر کے 26 قیمتی جانوں کا ضیاع کیا۔ پاکستان نے اس سنگین دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کی اور اب اس واقعے کی مشترکہ تحقیقات کی پیشکش کی ہے۔ تاہم بھارت اس پیشکش کو قبول نہیں کرے گا کیونکہ اس واقعے کے بارے میں یہ واضح ہے کہ بھارت نے خود اس وحشیانہ حملے کا بندوبست کر رکھا تھا۔ بھارت نے حملے کی جگہ سے محض چند دن پہلے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو ہٹادیا تھا۔ اس لیے وہ غیر جانبدار تحقیقات کی استطاعت نہیں رکھتے۔ بھارت غالباً مذاکرات کی میز سے بھاگ جائے گا۔
پاکستان کو ہر مسئلے کا ذمہ دار ٹھہرانے کی اپنی 77 سالہ تاریخ کے مطابق بھارت نے اس بار بھی بغیر کسی ٹھوس ثبوت یا دستاویزت کے پاکستان کو اس ناقابلِ تصور اور ناقابلِ معافی دہشت گرد حملے کا ذمہ دار قرار دینا شروع کر دیا۔ انہوں نے عوامی جذبات کو بھڑکایا اور ”انتقام، انتقام، جنگ، جنگ“ کے نعرے بلند کروا دیے۔ ایک جنون کا آغاز ہو چکا ہے جو درحقیقت بھارت کو اس پورے خطے سے زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔
ایشیا میں امریکہ کی خارجہ پالیسی کا سنگِ بنیاد 1949 میں رکھا گیا تھا، جب ماؤزے تنگ نے جنرل چیانگ کائی شک کی کومنتانگ افواج کو شکست دے کر آزادی کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت سے لے کر اب تک امریکہ کا مقصد کمیونزم کے پھیلاؤ کو روکنا رہا ہے۔ نہرو بھی مغرب کے جال میں پھنس گئے اور چین کے ساتھ فوجی طور پر نبرد آزما ہو گئے، حالانکہ انہوں نے پہلے چین کو لداخ میں ”ہندی چینی بھائی بھائی“ کے طور پر پیش کیا تھا۔ بھارت کو اس جنگ میں مکمل شکست ہوئی۔ چین-بھارت جنگ کے نتیجے میں نہرو کی صحت خراب ہو گئی اور وہ اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی انتقال کر گئے۔ ان کی موت جنگ کے اثرات کی وجہ سے ہوئی۔
1949 سے 1978 تک چین ایک دھندلی اور مبہم صورتحال میں تھا۔ دنیا نے اس کی مکمل طاقت کو نہیں پہچانا تھا اور سیاسی حالات بھی غیر واضح تھے۔ معیشت کے دروازے کھلنے کے بعد چین نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اس کی ترقی شاندار رہی ہے اور یہ ایک معجزہ ہے کہ کس طرح یہ قوم راکھ سے اٹھ کر دوبارہ زندہ ہوئی۔ آج یہ طاقتور قوم، جو جدت طرزای اور الیکٹرانک ٹیکنالوجی کی سرپرست ہے، بھارت اور مغرب کے لیے ایک چیلنج بن چکی ہے۔
امریکہ اور چین کے درمیان حالیہ تجارتی جنگ نے امریکہ کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ قومیں بدلہ لینے میں وقت لیتی ہیں جبکہ افراد فوراً ردعمل دکھاتے ہیں۔ اس لیے کسی کی ذاتی خواہش کے باوجود کوئی بھی ملک جنگ سے حتی الامکان دور رہے گا کیوں کہ وہ نہیں چاہے گا کہ حالات اس قدر بگڑ جائیں کہ اس کے قابو سے ہی باہر ہوجائیں۔
بھارت نے چین کی عالمی تجارت، صنعت اور معیشت پر بڑھتی ہوئی برتری کو نقصان پہنچانے کے لیے اتحادی ڈھونڈنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ اس مقصد کے لیے اس نے پہلے پلوامہ کا جعلی حملہ کرایا، لیکن بری طرح ناکام ہوا۔ تین سال بعد بھارت نے اپنے ہی شہریوں کے قتل کا ڈرامہ رچایا۔ ایسا گھناؤنا عمل صرف ایک شیطانی ذہن رکھنے والی قیادت ہی سوچ سکتی ہے—اور یہ مودی نے کیا۔
انتقامی کارروائیوں کے سلسلے میں جو اس (یعنی مودی) نے منصوبہ بندی کی ہے، ان میں سے پہلا قدم حال ہی میں 1962 میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کی یک طرفہ طور پر معطلی تھی۔ دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ کو بند کرنے سے تمام بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ پانی اپنی فطرت کے اعتبار سے روکا نہیں جا سکتا؛ اس کی فطری خاصیت بہنا ہے۔ ہماری توقع یہ ہے کہ بھارت غیر متوقع طور پر اور پاکستان کو پیشگی اطلاع دیے بغیر پانی کے راستے کھول دے گا، تاکہ اس کی فصلوں کو نقصان پہنچایا جا سکے اور آنے والے مون سون کے موسم میں سیلاب آ سکے۔ اس نے ایسا 26 اپریل 2025 کو کیا۔ انہوں نے اچانک دریائے جہلم میں سیلاب لانے کی خواہش میں پانی چھوڑ دیا۔
بھارت کے یہ مایوس کُن اقدامات اس کے اپنے بگڑتے ہوئے سیاسی منظرنامے کے تناظر میں بھی دیکھے جانے چاہییں۔ برصغیر کے شمال مشرق میں واقع سات ریاستیں، جنہیں ”سیون سسٹرز“ کہا جاتا ہے، آزادی کے لیے مکمل طور پر تیار دکھائی دیتی ہیں۔ بھارت اور ان ریاستوں کے درمیان نہ کھانے کی عادات مشترک ہیں، نہ زبان، نہ ثقافت، اور نہ ہی موسیقی۔ ان کی موسیقی تو بنگلہ دیش کے خوشگوار اثرات کی وجہ سے زیادہ دلکش ہے۔ یہ ایک زبردستی کی شادی ہے — اور یہ شادی اب ٹوٹنے کے دہانے پر ہے۔ اب صرف طلاق کا وقت معلوم ہونا باقی ہے۔
مغرب اب بھی چین کو گھیرنے کی کوشش میں ہے لیکن شمال مشرقی ایشیائی ممالک میں اسے اب وہ حمایت حاصل نہیں جو کبھی 1945 سے 1949 کے درمیان تھی۔ اب ٹوکیو یا سیول میں جنرل ڈگلس میک آرتھر جیسا کوئی موجود نہیں اور ایسے شراکت دار بھی ناپید ہیں۔ چنانچہ متبادل راستہ یا تو روس تھا،جو چین کے ساتھ 2615 میل طویل سرحد رکھتا ہے یا پھر برصغیر۔ روس نے تو مغرب کا ساتھ دینے سے صاف انکار کر دیا اس لیے اب ساری توجہ جنوبی ایشیا پر مرکوز ہے — جہاں بھارت بظاہر اس ’جرم‘ میں شریک کار بننے پر آمادہ ہے۔
چین ایک بالغ نظر قوم ہے، جس کی قیادت نہ صرف دُور اندیش ہے بلکہ عملی حکمتِ عملی پر بھی یقین رکھتی ہے۔ اگر چین بغیر ایک گولی چلائے مذاکرات کی میز پر ہانگ کانگ اور مکاؤ جیسے شہر-ریاست واپس لے سکتا ہے، تو وہ تائیوان اور لداخ کے معاملے میں بھی ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ’گریٹر چائنا‘ کا ابھرنا دہلی اور مغرب کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہے—لیکن یہ ایک حقیقت ہے جسے دنیا کو تسلیم کرنا پڑے گا۔
بھارتی حکومت—یعنی درحقیقت صرف نریندر مودی اور ان کے ہم خیال وزیر داخلہ امیت شاہ—کو یہ مشورہ دیا جانا چاہیے کہ وہ جنگ جیسے حالات پیدا کرنے سے باز آ جائیں۔ مسلح تصادم کبھی بھی دیرپا حل نہیں ہوتے۔ پاکستان نے اب تک بالغ نظری اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور اسی پالیسی کو برقرار رکھنا چاہیے۔ بھارت اپنے مقاصد میں ناکام ہو چکا ہے لیکن ممکن ہے وہ دوبارہ کوشش کرے۔ تاہم، ہماری مسلح افواج، اللہ کے فضل و کرم سے بھارت کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔ جیسا کہ آج کل کہا جا رہا ہے: اس بار چائے نہیں ملے گی۔ مگر ہم ایک مہمان نواز قوم ہیں؛ اگر ابھینندن جیسے لوگ پھر آئے، تو ان کے لیے ”جلیبی“ یا دوستی کا ”رس گلہ“ میز پر ضرور موجود ہوگا۔ مودی، تمہارے پاس ابھی بھی فیصلہ کرنے کا موقع ہے—لیکن یاد رکھو، تاریخ تمہارے حق میں نہیں۔
The writer is a senior banker & freelance contributor


























Comments
Comments are closed.