انٹر بینک مارکیٹ میں جمعہ کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 0.03 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 280.97 روپے پر بند ہوا جو گزشتہ روز کے مقابلے میں 10 پیسے کم ہے۔
یاد رہے کہ جمعرات کو انٹر بینک مارکیٹ میں روپیہ 0.04 فیصد کی کمی سے 15 ماہ کی کم ترین سطح 281.07 پر پہنچ گیا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر جمعہ کو ڈالر نے معمولی نقصانات کے بعد اوپر کی جانب حرکت کی کیونکہ تاجر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجارتی معاہدوں اور فیڈرل ریزرو کی مداخلت پر غیر مستحکم پیغامات کے پیش نظر امریکی معیشت کے مستقبل کا جائزہ لے رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شرح سود میں تیزی سے کمی نہ کرنے پر فیڈرل بینک کے چیئرمین جیروم پاول کو برطرف کرنے کی دھمکی کے بعد امریکی کرنسی میں رواں ہفتے تیزی سے اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا اور اس کے ایک روز بعد ہی اس میں 1.5 فیصد اضافہ ہوگیا کیونکہ ٹرمپ نے کہا کہ ان کا پاول کی جگہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں اور انہوں نے چین کے ساتھ تجارتی جنگ میں کمی کی تجویز پیش کی
بیجنگ کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کی حقیقی پیشرفت نہ ہونے کے باعث ہفتے کے آخر میں ڈالر دوبارہ نیچے آ گیا۔ پورے ہفتے کے دوران، ڈالر انڈیکس – صرف 0.27 فیصد اضافہ دکھا رہا ہے۔
سرمایہ کار خاص طور پر اس بات سے لاعلم ہیں کہ اس وقت چین کے ساتھ معاملات کہاں کھڑے ہیں۔ بیجنگ نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ اس نے واشنگٹن کے ساتھ کوئی تجارتی بات چیت نہیں کی، حالانکہ ٹرمپ نے دن کے آخر میں دوبارہ کہا کہ براہ راست مذاکرات جاری ہیں۔
امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ میں ممکنہ کمی کی وجہ سے جمعہ کے روز دوسرے سیشن میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، لیکن زیادہ رسد کے خدشات کے پیش نظر مارکیٹ میں ہفتہ وار 2 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی۔
برینٹ کروڈ فیوچر 31 سینٹ اضافے سے 66.85 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا، جو ہفتے کے دوران اب تک 1.7 فیصد کم ہے۔
یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 35 سینٹ اضافے سے 63.12 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
ایل ایس ای جی کے سینئر تجزیہ کار این ایچ فام نے کہا کہ “آج کے لئے، تیل کی قیمتوں میں قدرے اضافہ ہوا ہے کیونکہ مارکیٹ ٹرمپ کے محصولات کے ارد گرد تناؤ میں کمی کے اشارے اور فیڈ کے پالیسی موقف میں ممکنہ تبدیلی کا جواب دیتی ہے، جس سے مارکیٹ کی وسیع تر بحالی میں مدد ملتی ہے۔
























Comments
Comments are closed.