BR100 Decreased By (-0.25%)
BR30 Decreased By (-0.64%)
KSE100 Decreased By (-0.41%)
KSE30 Decreased By (-0.67%)
BAFL 58.40 Decreased By ▼ -0.05 (-0.09%)
BIPL 25.55 Increased By ▲ 0.13 (0.51%)
BOP 33.85 Decreased By ▼ -0.40 (-1.17%)
CNERGY 8.15 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
DFML 20.70 Decreased By ▼ -0.26 (-1.24%)
DGKC 197.00 Decreased By ▼ -0.47 (-0.24%)
FABL 89.90 Increased By ▲ 0.39 (0.44%)
FCCL 53.35 Decreased By ▼ -0.54 (-1%)
FFL 17.89 Decreased By ▼ -0.14 (-0.78%)
GGL 20.49 Increased By ▲ 0.69 (3.48%)
HBL 286.50 Increased By ▲ 0.44 (0.15%)
HUBC 213.89 Decreased By ▼ -1.51 (-0.7%)
HUMNL 11.06 Increased By ▲ 0.06 (0.55%)
KEL 8.05 Decreased By ▼ -0.06 (-0.74%)
LOTCHEM 28.12 Increased By ▲ 0.68 (2.48%)
MLCF 87.19 Decreased By ▼ -0.86 (-0.98%)
OGDC 320.75 Decreased By ▼ -3.81 (-1.17%)
PAEL 40.31 Increased By ▲ 0.37 (0.93%)
PIBTL 17.09 Decreased By ▼ -0.23 (-1.33%)
PIOC 276.00 Increased By ▲ 0.54 (0.2%)
PPL 228.40 Decreased By ▼ -4.38 (-1.88%)
PRL 34.59 Decreased By ▼ -0.36 (-1.03%)
SNGP 98.80 Decreased By ▼ -0.81 (-0.81%)
SSGC 26.90 Decreased By ▼ -0.27 (-0.99%)
TELE 8.53 Decreased By ▼ -0.04 (-0.47%)
TPLP 9.29 Increased By ▲ 0.53 (6.05%)
TRG 71.69 Decreased By ▼ -0.06 (-0.08%)
UNITY 11.58 Decreased By ▼ -0.09 (-0.77%)
WTL 1.28 Increased By ▲ 0.02 (1.59%)
پاکستان

بھارت یکطرفہ طور پر انڈس واٹر ٹریٹی کو ختم نہیں کر سکتا

  • نئی دہلی کی جانب سے انڈس واٹر ٹریٹی کو یکطرفہ طور پر منسوخ کیے جانے کی خبریں محض قیاس آرائیاں ہیں، ذرائع
شائع April 24, 2025 اپ ڈیٹ April 24, 2025 07:53am

ورلڈ بینک کی ثالثی میں طے پانے والا ”انڈس واٹر ٹریٹی“ (سندھ طاس معاہدہ) موجودہ کشیدگی کے تناظر میں بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر ختم کیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے باخبر ذرائع نے غیر مصدقہ اطلاعات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی کی جانب سے انڈس واٹر ٹریٹی کو یکطرفہ طور پر منسوخ کیے جانے کی خبریں محض قیاس آرائیاں ہیں۔ ذرائع کے مطابق نہ تو پاکستان اور نہ ہی بھارت اس معاہدے کو، جو ورلڈ بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا، ختم کر سکتے ہیں۔

انڈس واٹر ٹریٹی دراصل بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کی تقسیم کا معاہدہ تھا، جو ورلڈ بینک کی نگرانی میں طے پایا۔ یہ معاہدہ 19 ستمبر 1960 کو کراچی میں اُس وقت کے بھارتی وزیرِ اعظم جواہر لال نہرو اور پاکستانی صدر فیلڈ مارشل ایوب خان کے درمیان دستخط ہوا۔

اس معاہدے کے تحت بھارت کو تین مشرقی دریاؤں – بیاس، راوی اور ستلج – کے پانی پر اختیار دیا گیا جن کا سالانہ اوسط بہاؤ 41 ارب مکعب میٹر (33 ملین ایکڑ فٹ) ہے، جبکہ پاکستان کو تین مغربی دریاؤں – سندھ، چناب اور جہلم – پر اختیار دیا گیا جن کا سالانہ اوسط بہاؤ 99 ارب مکعب میٹر ہے۔

یوں بھارت کو بھارت میں واقع دریاؤں کے نظام سے دستیاب کل پانی کا تقریباً 30 فیصد ملا جبکہ پاکستان کو باقی 70 فیصد حاصل ہوتا ہے۔

Comments

Comments are closed.