غزہ کے بچے اور عالمی برادری کی خاموشی
جوں ہی عید کی آخری صدائیں عالم اسلام میں مدھم ہوئیں، غزہ ایک خوفناک خواب میں جکڑا رہا۔ اداسی، مایوسی اور دل شکستگی کے بادل خوشیوں اور امنگوں سے بھرے اس تہوار پر چھائے رہے۔ مغموم اور دھویں سے بھری فضا اب بھی حملوں اور اسنائپر فائر کی بازگشت سے لرز رہی ہے۔ مائیں بکھریں لاشوں کی باقیات تھامے ہوئی ہیں؛ باپ زندگی کے آثار کی امید کے ساتھ ملبہ ہٹارہے ہیں۔ جو دن ہنسی اور دعوتوں کے ہونے چاہیے تھے، وہ ایک نوحہ بن گئے – عالم اسلام کے دیگر حصوں میں خوشی کے رنگوں کے برعکس یہ ایک ظالمانہ تضاد ہے۔
یہاں عید کی رسومات ملبے میں دفن ہو چکی ہیں، اس کی مٹھاس خون کی کڑواہٹ سے تبدیل گئی ہے۔ غزہ، ایک زندہ قید خانہ ہے جہاں لوگ بمباری کے دوران اپنی سانسیں گنتے ہیں اور یہاں کے شہری امید کا کمزور امیدوں کے سہارے جی رہے ہیں۔ یہاں جینا ایک مذبح خانے میں موجود ہونے کے مترادف ہے جہاں موت سائے کی طرح پیچھا کرتی ہے؛ جہاں ایک روٹی یا پانی کا ایک قطرہ حاصل کرنا تقدیر کے ساتھ جوا کھیلنا بن جاتا ہے۔ ہر صبح، وہ لاشوں اور چیخوں کے ساتھ جاگتے ہیں، زخمیوں کی بڑی تعداد تباہ حال اسپتالوں کے فرش پر بے یار و مددگار دردناک موت کا انتظار کر رہی ہوتی ہیں۔
غزہ کے برعکس دیگر ممالک میں عید خوشیوں اور جوش اور ولولوں سے بھرپور تھی۔ بچے عید کے تحفے تھامے، دھوپ میں چمکتے باغات میں جھولتے اور معصومانہ جرات کے ساتھ اپنے پسندیدہ کھانے مانگ رہے تھے۔ غزہ کی نوجوان روحیں کھنڈرات میں بھٹک رہی تھیں۔ 7 اکتوبر 2023 سے پہلے، الرمل اور الصحہ جیسے بازار تہواروں کی تیاری کرنے والے خاندانوں سے گونجتے تھے۔ آج یہ گلیاں یادوں کا قبرستان ہیں۔ کوئی بچہ نئے کپڑوں، جوتوں یا کچن میں پکتی ہوئی ’سماقیہ‘ کی لذیذ خوشبو کا خواب نہیں دیکھتا؛ اس کے بجائے، وہ تپتی ہوئی دھوپ میں پانی اور خوراک کی تلاش میں سرگرداں ہیں، ان کی ہنسی ان ماؤں کی آہ و بکا میں دب جاتی ہے جو اپنے پیاروں کی لاشیں تھامے نوحہ کناں ہوتی ہیں۔ ان کے لیے، عید کوئی تہوار، دعوت نہیں بلکہ ایک جنازہ ہے – شیلنگ، بمباری نے مسلسل دو برس سے ان کی خوشیاں غارت کر رکھی ہیں۔ اس عید پر بھی انہوں نے تابوت اٹھائے۔ مکمل افراتفری کا راج رہا کیوں کہ بمباری اور شیلنگ کے نتیجے میں جسموں سے اعضا تک کٹ گئے۔ یونیسیف نے 18 مارچ سے شروع ہونے والے نئے جنگی جنون اور دیوانگی میں 322 سے زائد بچوں کے شہید اور 609 کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔
یہ اعداد و شمار نقصانات کا ایک بھیانک منظر پیش کرتے ہیں: 18,000 بچے شہید، 21,000 ملبے تلے دب کر لاپتہ، 34,000 زخمی، 15,000 زندگی بھر کے لیے معذور، 39,000 سے زائد بچوں یتم مسکین ہوگئے ہیں۔ 17,000 بچے ایسے ہیں جن کے والدین جاں بحق ہوچکے ہیں۔ غزہ کو جدید تاریخ کا سب سے بڑا یتیموں کا بحران درپیش ہے۔ ہر 45 منٹ میں ایک بچہ قربان ہو رہا ہے — روزانہ 30 بچے، 535 دنوں تک۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں۔ غزہ میں وہ بچیاں جو اسکول جاتے وقت اپنے بالوں میں پٹے بناتی تھیں، وہ لڑکے جو ڈاکٹروں اور انجینئرز بننے کے خواب دیکھتے تھے۔ غزہ کی 12 یونیورسٹیاں اب کھنڈرات میں بدل چکی ہیں؛ 88,000 طلباء کا مستقبل تاریک ہوگیا ہے۔ اونرا کے 200 اسکولوں میں سے کوئی بھی فعال نہیں رہا۔ 6,000 سے زائد تعلیمی اداروں پر حملے ہو چکے ہیں جس سے بلیک بورڈز راکھ کا ڈھیر بن گئے ہیں، یہ کوئی ایسا نقصان نہیں جس سے بچنے کی کوشش کی گئی ہو بلکہ دانستہ ہے۔یہ علم کو ختم کرنے کے لیے ایک منظم جنگ ہے۔
18 مارچ کو اسرائیل نے تکبر اور طاقت کے نشے میں ایک نازک جنگ بندی کو توڑتے ہوئے ایسا شب خون مارا جس کے نتیجے میں 400 سے زائد بے گناہ افراد – بچے، عورتیں، خاندان – مارے گئے۔ عالمی بے خوفی سے حوصلہ پانے والی قابض صیہونی ریاست نے طاقت اور شدت کے ساتھ آگ برسائی۔ ’مہذب‘ دنیا جو دوسری جگہوں پر جنگوں کو فوراً فنڈ کرتی ہے فلسطینی بچوں کو مٹی اور وباؤں میں تڑپتے ہوئے دیکھ کر خاموش رہی۔ فلسطینی بچوں کو مٹی اور وباؤں میں گھٹتے ہوئے دیکھ کر آنکھیں بند کررہی ہے ۔ یونیسکو کے ’محفوظ اسکول‘ کہاں ہیں؟ یونیسیف کے بچوں کے حقوق کے وعدے کہاں ہیں؟ کیوں انتھونی بلنکن کی 11 مرتبہ مشرق وسطیٰ کے دورے بچوں کے قتل عام کو روک نہ سکے؟ فلسطینی بچوں کے لیے صرف خالی سفارتکاری اور فضول تقریریں؟ منافقت کھل کر سامنے آتی ہے: جب متاثرین فلسطینی ہوں، تو حتی کہ جمہوریت، انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے علمبردار بھی خاموش ہو جاتے ہیں۔
سوال یہ نہیں ہے کہ یہ کیسے ہوا، لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اسے جاری رکھنے کی اجازت کیوں دیتے ہیں۔ 62,000 سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں سے 18,000 بچے ہیں - پھر بھی ”انسانی حقوق“ کے معمار کھوکھلی قراردادوں کا مسودہ تیار کرتے ہیں، ان کی بے حسی مجرمانہ ہے۔ غزہ کے صدمے سے دوچار بچے عارضی رحم سے زیادہ کے مستحق ہیں۔ وہ دوبارہ تعمیر شدہ اسکولوں، سیکھنے تک بلا تعطل رسائی اور ٹینکوں سے بھاگنے کے بجائے غباروں اور خوابوں کا تعاقب کرنے کے حق کے مستحق ہیں۔ وہ موت کی بو سے پاک عید کے مستحق تھے۔
یہ صرف فلسطین کا بحران نہیں ہے – یہ انسانیت کا محاسبہ ہے۔ اگر ہم غزہ کے بچوں کو بے حس بھوتوں میں تبدیل ہونے دیں، تو ہم اپنی تہذیب کے دعوے کو ترک کر دیتے ہیں۔ اب احتجاج کے روایتی اظہار کا وقت گزر چکا ہے۔ دنیا کو عمل کرنا ہوگا: ہتھیاروں کی ترسیل روکی جائے، تباہی کے معماروں پر پابندیاں لگائی جائیں اور ہر چھنے ہوئے خواب کی جوابدہی کا مطالبہ کیا جائے۔ یہ عید خونریزی کے درمیان گزری۔ دنیا نے عمل کے بجائے ظاہری مسکراہٹوں کو ترجیح دی، لاشیں دیکھتے رہے اور دھماکوں کے نتیجے میں بچوں کی ہنسی دب گئی انہیں ابدی سکون ملے۔ اگلی عید کتابوں کے ساتھ ہو، بموں کے نہیں؛ جھولوں کے ساتھ ہو، اسنائپر کی آوازوں کے ساتھ نہیں۔

























Comments
Comments are closed.