عالمی بینک کے تین رکنی وفد، جس کی قیادت جنوبی ایشیا میں انفراسٹرکچر کے ریجنل ڈائریکٹر پنکج گپتا کر رہے تھے، نے زیر تعمیر 1530 میگاواٹ تربیلا پانچویں توسیعی ہائیڈرو پاور منصوبے کا دورہ کیا۔ وفد کے ہمراہ چیئرمین واپڈا انجینئر لیفٹیننٹ جنرل (ر) سجاد غنی بھی موجود تھے۔
وفد نے منصوبے کی متعدد اہم جگہوں کا تفصیلی دورہ کیا اور جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا۔ ان جگہوں میں بلند شدہ انٹیک، سرنگ، پین اسٹاک اور پاور ہاؤس شامل تھے۔
اس موقع پر چیئرمین واپڈا نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان میں پانی اور پن بجلی کے اہم وسائل کو بروئے کار لانے میں عالمی بینک کی معاونت پر ان کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ واپڈا اور عالمی بینک کے درمیان چھ دہائیوں پر محیط شراکت داری آئندہ مزید مستحکم ہوگی۔
آن سائٹ بریفنگ کے دوران جنرل منیجر/پروجیکٹ ڈائریکٹر تربیلا پانچویں توسیعی منصوبہ نے وفد کو آگاہ کیا کہ منصوبے کے ساتوں اہم ورک فرنٹ پر تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے۔ وفد کو بتایا گیا کہ انٹیک شافٹ، پین اسٹاک، پاور ہاؤس اور سوئچ یارڈ پر کھدائی مکمل ہو چکی ہے، جبکہ انٹیک، پاور ہاؤس، سوئچ یارڈ، ٹیل ریس کلورٹ اور نہر پر کنکریٹ کا کام جاری ہے۔
تینوں جنریٹنگ یونٹس کے ڈرافٹ ٹیوبز نصب کیے جا چکے ہیں۔ اسی طرح پین اسٹاک پائپز کی تنصیب اور سوئچ یارڈ میں الیکٹرو مکینیکل کام بھی جاری ہیں۔ منصوبے سے بجلی کی پیداوار 2026 میں شروع ہونے کی توقع ہے۔
تربیلا پانچویں توسیعی منصوبہ واپڈا کے صاف، سبز اور کم لاگت توانائی کے منصوبہ جات کا حصہ ہے۔ اس منصوبے کے لیے عالمی بینک 390 ملین امریکی ڈالر مالی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ پانچویں توسیع کے تحت تربیلا ڈیم کی ٹنل نمبر 5 پر تین جنریٹنگ یونٹس (ہر ایک 510 میگاواٹ) نصب کیے جا رہے ہیں، جو سالانہ اوسطاً 1.347 ارب یونٹ پن بجلی نیشنل گرڈ کو فراہم کریں گے۔
منصوبے کی تکمیل کے بعد تربیلا ڈیم کی مجموعی پیداواری صلاحیت بڑھ کر 6418 میگاواٹ ہو جائے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
























Comments
Comments are closed.