آذربائیجان کے ساتھ معاہدوں پر عمل درآمد، وزیراعظم نے اسحاق ڈار کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دیدی
وزیراعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کے حالیہ دورے کے دوران ہونے والی مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر فوری عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی۔
گزشتہ ہفتے وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ آذربائیجان کے دوران پاکستان اور آذربائیجان نے باکو کی جانب سے پاکستان میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے متعلق امور کو حتمی شکل دی تھی، اس کے علاوہ دوطرفہ تجارتی حجم بڑھانے اور دفاعی پیداوار میں تعاون کے منصوبوں کو بھی حتمی شکل دی تھی۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم کمیٹی توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں معاہدوں کی تیاری پر توجہ مرکوز کرے گی۔
کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ وزیراعظم کی زیر صدارت آذربائیجان کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے ہونے والے اجلاس کے دوران کیا گیا۔
انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ آذربائیجان کے ساتھ تجارتی حجم کو 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کے لئے ایک ایکشن پلان تیار کیا جائے اور اپریل میں آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کے دورہ پاکستان کے پیش نظر تمام تیاریاں فوری طور پر مکمل کرنے کو یقینی بنایا جائے۔ شہباز شریف کے آذربائیجان کے دورے کے دوران صدر الہام علیوف نے پاکستان کے لیے دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدوں کو باضابطہ شکل دینے کے لیے اپریل میں اسلام آباد کا دورہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
اعلامیے میں شہباز شریف کی جانب سے آذربائیجان اور پاکستان کے ساتھ اہم تجارتی امکانات رکھنے والے دیگر ممالک میں تجارتی افسران کی تعیناتی پر زور دیا گیا، پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان مضبوط تعلقات اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی حکومت کی کوششوں کو اجاگر کیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ باکو میں پاک آذربائیجان بزنس فورم میں 83 پاکستانی اور 101 آذربائیجان کی کمپنیوں نے شرکت کی۔ دورے کے دوران دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 13 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے گئے جن میں پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی لمیٹڈ (پی ایس او) اور اسٹیٹ آئل کمپنی آف آذربائیجان ریپبلک (ایس او سی اے آر) کے درمیان تیل سے متعلق معاہدوں کے ساتھ ساتھ ماسٹر ایل این جی کی خرید و فروخت کے معاہدے کے تحت مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کارگو کی خرید و فروخت کے لیے ترمیمی معاہدہ بھی شامل ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025




















Comments
Comments are closed.