BR100 Decreased By (-0.25%)
BR30 Decreased By (-0.64%)
KSE100 Decreased By (-0.41%)
KSE30 Decreased By (-0.67%)
BAFL 58.35 Decreased By ▼ -0.10 (-0.17%)
BIPL 25.54 Increased By ▲ 0.12 (0.47%)
BOP 33.79 Decreased By ▼ -0.46 (-1.34%)
CNERGY 8.15 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
DFML 20.71 Decreased By ▼ -0.25 (-1.19%)
DGKC 197.20 Decreased By ▼ -0.27 (-0.14%)
FABL 90.03 Increased By ▲ 0.52 (0.58%)
FCCL 53.49 Decreased By ▼ -0.40 (-0.74%)
FFL 17.84 Decreased By ▼ -0.19 (-1.05%)
GGL 20.35 Increased By ▲ 0.55 (2.78%)
HBL 285.69 Decreased By ▼ -0.37 (-0.13%)
HUBC 214.12 Decreased By ▼ -1.28 (-0.59%)
HUMNL 11.11 Increased By ▲ 0.11 (1%)
KEL 8.02 Decreased By ▼ -0.09 (-1.11%)
LOTCHEM 28.05 Increased By ▲ 0.61 (2.22%)
MLCF 87.40 Decreased By ▼ -0.65 (-0.74%)
OGDC 320.31 Decreased By ▼ -4.25 (-1.31%)
PAEL 40.25 Increased By ▲ 0.31 (0.78%)
PIBTL 17.14 Decreased By ▼ -0.18 (-1.04%)
PIOC 274.58 Decreased By ▼ -0.88 (-0.32%)
PPL 228.73 Decreased By ▼ -4.05 (-1.74%)
PRL 34.49 Decreased By ▼ -0.46 (-1.32%)
SNGP 98.83 Decreased By ▼ -0.78 (-0.78%)
SSGC 26.83 Decreased By ▼ -0.34 (-1.25%)
TELE 8.53 Decreased By ▼ -0.04 (-0.47%)
TPLP 9.33 Increased By ▲ 0.57 (6.51%)
TRG 71.61 Decreased By ▼ -0.14 (-0.2%)
UNITY 11.56 Decreased By ▼ -0.11 (-0.94%)
WTL 1.28 Increased By ▲ 0.02 (1.59%)

یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے سرپرستِ اعلیٰ نے وزیرِاعظم، وفاقی وزیر برائے توانائی اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کمیٹی (ایس آئی ایف سی ) سے مطالبہ کیا ہے کہ صارفین کے لیے بجلی کا ٹیرف کم کرکے جلد از جلد 26 روپے فی یونٹ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام حکومت کی جانب سے نڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے خلاف کارروائی کے تناظر میں نہایت اہم ہے۔

ان کے مطابق، بجلی کا ٹیرف پہلے ہی 46 روپے فی یونٹ سے کم کرکے 34 روپے فی یونٹ کردیا گیا ہے اور اب صنعتی شعبے کی پیداواری صلاحیت برقرار رکھنے کے لیے مزید کمی کرکے 26 روپے فی یونٹ کرنے کی توقع کی جارہی ہے۔

تنویر نے نشاندہی کی کہ حکومت نے باضابطہ طور پر 27 آئی پی پیز کے معاہدے ختم کر دیے ہیں اور ٹیرف میں نظرثانی کی ہے، جبکہ ونڈ مل منصوبوں کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت آئی پی پیز کو مستقبل میں کی جانے والی ادائیگیوں میں تقریباً 1.571 کھرب روپے کی بچت حاصل کرے گی، جسے فوری طور پر صارفین تک منتقل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ یہ عمل سست روی کا شکار ہے، اور کہا کہ ایف پی سی سی آئی کی قیادت متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور پر امید ہے کہ بجلی کا ٹیرف آئندہ ماہ تک 26 روپے فی یونٹ کر دیا جائے گا۔

تنویر نے مزید کہا کہ وفاقی وزیر نے بھی اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ ملک میں پیدا ہونے والے 120 کروڑ یونٹس پر 1.1 کھرب روپے کے کیپیسٹی چارجز ختم کرنے سے بجلی کا ٹیرف 11.50 روپے تک کم ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کے نرخوں میں اضافے کی وجہ سے صنعت کو غیر معمولی بحران کا سامنا ہے اور فوری ریلیف ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ٹیرف نے کاروبار کی بقا کو مشکل بنا دیا ہے، اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو وسیع پیمانے پر ملوں اور صنعتوں کی بندش ہو سکتی ہے، جس سے لاکھوں مزدور متاثر ہوں گے۔

تنویر نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر کارروائی کرے اور ٹیرف میں کمی کا اعلان کرے تاکہ صنعتوں کو تباہ ہونے سے روکا جاسکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.