وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) پاکستان کے ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی جانب سے غیر تسلیم شدہ جعلی تعلیمی اداروں کے ٹیکس معاملات کے خلاف تحقیقات کے لیے صدر کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس پر صدر پاکستان کو تفصیلی رپورٹ پیش کرینگے۔
باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایف ٹی او آرڈیننس 2000 کی دفعہ 31 کے تحت صدر مملکت کی جانب سے ٹیکس دہندہ شہری وحید بٹ کے اقدام پر بھجوائے گئے ریفرنس کی بنیاد پر ایف ٹی او آفس نے ایف بی آر کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا تھا لیکن کوئی رپورٹ صدر پاکستان کے سامنے پیش نہیں کی گئی۔
اس سے قبل ایف ٹی او کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹس میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ ریفرنس صدر پاکستان کی جانب سے دیا گیا ہے۔
جبکہ ایف ٹی او نے اس موضوع کے حوالے سے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ اب; لہٰذا آپ کو ریفرنس میں شامل مسائل پر پیرا وائز تبصرے تحریری شکل میں پیش کرنے ہوں گے۔
وسل بلور ٹیکس دہندگان وحید بٹ نے اس خط و کتابت میں بتایا کہ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ جعلی/ فراڈ تعلیمی اداروں کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے جو ”تعلیم“ کے عظیم پیشہ کے نام پر عوام سے رقوم کی لوٹ مار کرتے ہیں لیکن سرکاری خزانے کو کچھ نہیں دیتے اور بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری میں کھلے عام ملوث ہیں۔
اگرچہ ایچ ای سی ایک منظم ریگولیٹری میکانزم رکھتا ہے لیکن ان نجی اداروں / کالجوں / یونیورسٹیوں کے ٹیکس معاملات کو ایف بی آر نے مناسب طریقے سے نہیں دیکھا ہے۔
ایچ ای سی کی جانب سے درجنوں اداروں کو ”جعلی، غیر قانونی اور غیر تسلیم شدہ اداروں“ کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جو بالآخر تعلیم کے عظیم پیشے میں انصاف کے عمل کو دھوکہ دینے کے لئے دھوکہ دہی کو فروغ دے رہے ہیں۔
وحید بٹ نے مزید کہا کہ ایف بی آر کو آئی ٹی او 2001 کی دفعات 161، 205، 182، 114، 176، 177، 214 سی اور سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 11، 25، 72 بی کے تحت ایچ ای سی کی جانب سے غیر منظور شدہ اداروں/ اداروں کے خلاف کارروائی سمیت مناسب ٹیکس کارروائی شروع کرنی چاہیے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025




















Comments
Comments are closed.