BR100 Increased By (0.2%)
BR30 Increased By (1.08%)
KSE100 Increased By (0.08%)
KSE30 Decreased By (-0.14%)
BAFL 61.65 Increased By ▲ 0.67 (1.1%)
BIPL 27.45 Decreased By ▼ -0.16 (-0.58%)
BOP 36.41 Increased By ▲ 0.03 (0.08%)
CNERGY 8.46 Increased By ▲ 0.13 (1.56%)
DFML 20.19 Increased By ▲ 0.53 (2.7%)
DGKC 218.89 Increased By ▲ 1.70 (0.78%)
FABL 97.01 Decreased By ▼ -0.63 (-0.65%)
FCCL 58.20 Increased By ▲ 0.69 (1.2%)
FFL 18.13 Increased By ▲ 0.07 (0.39%)
GGL 23.39 Increased By ▲ 0.27 (1.17%)
HBL 305.51 Increased By ▲ 3.01 (1%)
HUBC 226.99 Decreased By ▼ -3.12 (-1.36%)
HUMNL 11.63 Decreased By ▼ -0.04 (-0.34%)
KEL 8.33 Increased By ▲ 0.19 (2.33%)
LOTCHEM 28.69 Increased By ▲ 0.17 (0.6%)
MLCF 98.69 Increased By ▲ 1.02 (1.04%)
OGDC 331.50 Increased By ▲ 3.86 (1.18%)
PAEL 43.32 Decreased By ▼ -0.24 (-0.55%)
PIBTL 18.61 Increased By ▲ 0.26 (1.42%)
PIOC 285.99 Decreased By ▼ -1.78 (-0.62%)
PPL 245.32 Increased By ▲ 6.43 (2.69%)
PRL 37.12 Increased By ▲ 0.85 (2.34%)
SNGP 116.00 Increased By ▲ 3.06 (2.71%)
SSGC 31.65 Increased By ▲ 1.22 (4.01%)
TELE 9.68 Increased By ▲ 0.14 (1.47%)
TPLP 11.32 Increased By ▲ 0.05 (0.44%)
TRG 71.20 Increased By ▲ 0.78 (1.11%)
UNITY 11.54 Decreased By ▼ -0.05 (-0.43%)
WTL 1.29 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

صوبائی ٹیکس اتھارٹیز اور محکموں نے ٹیکس بیس بڑھانے کیلئے ایف بی آر کے ساتھ ڈیٹا شیئر کردیا

  • اب تک صوبائی لینڈ اینڈ ریونیو اتھارٹیز، ڈیولپمنٹ اتھارٹیز، گاڑیوں کی ملکیت، منرل اینڈ مائنز اینڈ فوڈ اتھارٹی نے ایف بی آر کے ساتھ ڈیٹا شیئر کیا ہے
شائع February 23, 2025 اپ ڈیٹ February 23, 2025 09:13am

صوبائی ریونیو اتھارٹیز (پی آر اے) اور محکموں نے ٹیکس بیس کو وسیع کرنے کے مقصد سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ساتھ ڈیٹا شیئر کیا ہے۔

ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اب تک صوبائی لینڈ اینڈ ریونیو اتھارٹیز، ڈیولپمنٹ اتھارٹیز، گاڑیوں کی ملکیت، منرل اینڈ مائنز اینڈ فوڈ اتھارٹی نے ایف بی آر کے ساتھ ڈیٹا شیئر کیا ہے۔

ایف بی آر اب گاڑیوں اور جائیدادوں کی ملکیت سمیت اعداد و شمار کا تجزیہ کر رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان معلومات کو دولت مند افراد کی رجسٹریشن کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

اس اعداد و شمار کو محصولات کی وصولی کو بڑھانے کے لئے پرتعیش طرز زندگی رکھنے والے افراد کے پوشیدہ اثاثوں کا پتہ لگانے کے لئے استعمال کرنے کی ضرورت تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کے پاس اب چاروں صوبوں کے 2کروڑ 10لاکھ سے زائد افراد کی گاڑیوں کی ملکیت کا ڈیٹا موجود ہے۔ اس کے علاوہ ڈیولپمنٹ اتھارٹیز نے 0.1 ملین سے زائد شہریوں کی تفصیلات بھی محکمہ ٹیکس کے ساتھ شیئر کی ہیں۔ اس کے علاوہ صوبائی ریونیو اتھارٹیز نے 20 ہزار سے زائد شناختی کارڈ سے متعلق ریکارڈ بھی پیش کیا ہے جبکہ صوبائی لینڈ اتھارٹیز نے 2کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد کی زمین سے متعلق تفصیلات بھی ایف بی آر کو فراہم کی ہیں۔

صوبائی فوڈ اتھارٹیز کے ساتھ ساتھ معدنیات اور کان کنی کے محکموں نے بھی شناختی کارڈ سے متعلق اعداد و شمار ایف بی آر کے ساتھ شیئر کیے ہیں۔

ایف بی آر اس ڈیٹا پر کام کر رہا ہے لیکن خاص طور پر پراپرٹی کی ملکیت اور لگژری گاڑیوں کی رجسٹریشن کے بارے میں ان معلومات کے ذریعے ٹیکس بیس کو وسیع کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

دوسری جانب ایف بی آر نے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) سے 5 کروڑ سے زائد ایسے افراد کا ڈیٹا حاصل کیا ہے جن کے بینک اکاؤنٹس، جائیداد کی ملکیت، لگژری گاڑیوں کی رجسٹریشن، بیرون ملک سفر شامل ہیں۔

ایف بی آر اور نادرا نے موجودہ ٹیکس دہندگان کی اصل آمدنی کا تعین کرنے، نئے ٹیکس دہندگان کی رجسٹریشن اور نان فائلرز کے ٹیکس پروفائلز کو حتمی شکل دینے کے لئے تعاون اور ڈیٹا کے تبادلے پر اتفاق کیا تھا۔

انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 175 بی کے تحت نادرا اپنی مرضی سے یا بورڈ کی درخواست پر ٹیکس بیس کو وسیع کرنے یا انکم ٹیکس آرڈیننس کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے اپنا ریکارڈ اور کوئی بھی معلومات بورڈ کے ساتھ شیئر کرے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.