BR100 Decreased By (-0.06%)
BR30 Increased By (1.22%)
KSE100 Decreased By (-0.07%)
KSE30 Decreased By (-0.47%)
BAFL 59.84 Increased By ▲ 0.82 (1.39%)
BIPL 27.18 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
BOP 35.28 Decreased By ▼ -1.18 (-3.24%)
CNERGY 13.13 Increased By ▲ 1.19 (9.97%)
DFML 18.08 Decreased By ▼ -0.12 (-0.66%)
DGKC 217.01 Decreased By ▼ -1.02 (-0.47%)
FABL 99.95 Decreased By ▼ -0.45 (-0.45%)
FCCL 57.97 Increased By ▲ 0.61 (1.06%)
FFL 16.42 Decreased By ▼ -0.16 (-0.97%)
GGL 24.36 Decreased By ▼ -0.26 (-1.06%)
HBL 326.21 Increased By ▲ 1.59 (0.49%)
HUBC 213.42 Decreased By ▼ -12.22 (-5.42%)
HUMNL 10.81 Increased By ▲ 0.02 (0.19%)
KEL 7.48 Increased By ▲ 0.16 (2.19%)
LOTCHEM 27.75 Increased By ▲ 0.61 (2.25%)
MLCF 102.98 Increased By ▲ 0.91 (0.89%)
OGDC 323.78 Increased By ▲ 4.59 (1.44%)
PAEL 43.90 Increased By ▲ 0.02 (0.05%)
PIBTL 16.68 Decreased By ▼ -0.16 (-0.95%)
PIOC 276.19 Increased By ▲ 1.35 (0.49%)
PPL 229.47 Increased By ▲ 7.92 (3.57%)
PRL 70.11 Increased By ▲ 6.36 (9.98%)
SNGP 103.66 Decreased By ▼ -0.13 (-0.13%)
SSGC 27.11 Decreased By ▼ -0.17 (-0.62%)
TELE 8.72 Increased By ▲ 0.10 (1.16%)
TPLP 15.68 Increased By ▲ 0.70 (4.67%)
TRG 61.13 Decreased By ▼ -2.16 (-3.41%)
UNITY 12.04 Increased By ▲ 0.53 (4.6%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

بنگلہ دیش کے صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا گیا ہے۔

یہ اعلان احتجاج کرنے والے طلبہ رہنماؤں کی جانب سے پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی ڈیڈ لائن مقرر کیے جانے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے، جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ اگر ان کی ڈیڈ لائن پر عمل نہیں کیا گیا تو سخت لائحہ عمل جاری کیا جائیگا۔

ادھر اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش کے آرمی چیف منگل کو طلباء کے احتجاجی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے کیونکہ ملک نئی حکومت کی تشکیل کا منتظر ہے ۔ واضح رہے کہ پرتشدد بغاوت کے بعد وزیراعظم شیخ حسینہ استعفیٰ دیکر فرار ہوگئی تھیں، جس میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

طالب علم رہنماؤں نے، جنہوں نے نوکریوں کے کوٹے کے خلاف تحریک کی قیادت کی جو شیخ حسینہ کے استعفیٰ کے مطالبے میں بدل گئی، منگل کو کہا کہ وہ ایک نئی عبوری حکومت چاہتے ہیں جس میں نوبل امن انعام یافتہ محمد یونس اس کے چیف ایڈوائزر ہوں گے۔

طلبہ تحریک کے اہم منتظمین میں سے ایک، ناہید اسلام نے تین دیگر منتظمین کے ساتھ فیس بک پر ایک ویڈیو میں کہا، ”ہم اپنی تجویز کردہ حکومت کے علاوہ کوئی بھی حکومت قبول نہیں کرینگے۔“ ”ہم فوج کی حمایت یافتہ یا فوج کی قیادت والی حکومت کو قبول نہیں کریں گے۔“

ناہید اسلام نے مزید کہا، ”ہم نے محمد یونس کے ساتھ بھی بات چیت کی ہے اور انہوں نے ہماری دعوت پر یہ ذمہ داری اٹھانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔“

84 سالہ یونس اور اس کے گرامین بینک نے بنگلہ دیش کے دیہی غریبوں کو 100 ڈالر سے کم کے چھوٹے قرضے دے کر لاکھوں لوگوں کو غربت سے نکالنے پر 2006 کا امن کا نوبل انعام جیتا تھا لیکن جون میں ایک عدالت نے ان پر غبن کے الزام میں فرد جرم عائد کی تھی۔ جس کا وہ انکار کرتے ہیں۔

یونس نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

بنگلہ دیش کے آرمی چیف جنرل وقار الزماں منگل کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے احتجاج کے منتظمین سے ملاقات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، فوج نے ایک بیان میں کہا کہ عبوری حکومت تشکیل دی جائیگی.

جنرل وقار الزماں نے کہا کہ انہوں نے بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے بات چیت کی ہے - جس میں شیخ حسینہ کی طویل حکمرانی کرنے والی عوامی لیگ کو چھوڑ کر معاملات آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے اور وہ صدر محمد شہاب الدین کے ساتھ بات چیت کرنے والے ہیں۔

صدر شہاب الدین نے پیر کو دیر گئے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ تمام جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ایک عبوری حکومت جلد از جلد انتخابات کرائے گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حزب اختلاف کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن اور شیخ حسینہ کی حریف بیگم خالدہ ضیا کو فوری طور پر رہا کرنے کا ”متفقہ طور پر فیصلہ“ کیا گیا ہے، جنہیں 2018 میں بدعنوانی کے ایک مقدمے میں سزا سنائی گئی تھی لیکن ایک سال بعد ان کی صحت کی وجہ سے انہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات سے انکار کیا تھا۔

بی این پی کے ترجمان نے پیر کو کہا کہ 78 سالہ خالدہ ضیا اسپتال میں ہیں اور قانونی کارروائی کے بعد جلد باہر آجائیں گی۔

76 سالہ شیخ حسینہ نے 2009 میں حکومت حاصل کی تھی۔ ڈھاکہ سے نکلنے کے بعد وہ پیر کو دہلی کے قریب ایک فوجی ہوائی اڈے، ہندن پر اتریں، دو بھارتی حکومتی عہدیداروں نے رائٹرز کو بتایا کہ بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے وہاں اس سے ملاقات کی۔

انہوں نے اس کے قیام یا منصوبوں کی وضاحت نہیں کی۔ انڈین ایکسپریس اخبار نے رپورٹ کیا کہ حسینہ کو ایک ”محفوظ مقام“ پر لے جایا گیا ہے اور امکان ہے کہ وہ برطانیہ کا سفر کر سکتی ہیں۔ رائٹرز فوری طور پر اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کر سکا۔

Comments

Comments are closed.