BR100 Decreased By (-1.08%)
BR30 Decreased By (-1.23%)
KSE100 Decreased By (-0.85%)
KSE30 Decreased By (-1.61%)
BAFL 58.80 Decreased By ▼ -0.23 (-0.39%)
BIPL 24.09 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
BOP 30.94 Decreased By ▼ -0.76 (-2.4%)
CNERGY 12.10 Increased By ▲ 0.04 (0.33%)
DFML 15.73 Increased By ▲ 0.18 (1.16%)
DGKC 200.41 Decreased By ▼ -2.78 (-1.37%)
FABL 91.91 Decreased By ▼ -1.23 (-1.32%)
FCCL 58.05 Decreased By ▼ -0.66 (-1.12%)
FFL 13.35 Decreased By ▼ -0.12 (-0.89%)
GGL 19.24 Decreased By ▼ -0.67 (-3.37%)
HBL 299.89 Decreased By ▼ -2.87 (-0.95%)
HUBC 201.61 Decreased By ▼ -6.44 (-3.1%)
HUMNL 8.63 Decreased By ▼ -0.06 (-0.69%)
KEL 6.11 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 24.43 Decreased By ▼ -0.39 (-1.57%)
MLCF 100.04 Decreased By ▼ -2.05 (-2.01%)
OGDC 312.89 Decreased By ▼ -3.35 (-1.06%)
PAEL 33.48 Decreased By ▼ -0.54 (-1.59%)
PIBTL 13.19 Decreased By ▼ -0.23 (-1.71%)
PIOC 262.29 Decreased By ▼ -3.15 (-1.19%)
PPL 217.96 Decreased By ▼ -3.34 (-1.51%)
PRL 85.55 Increased By ▲ 0.95 (1.12%)
SNGP 91.96 Decreased By ▼ -1.89 (-2.01%)
SSGC 22.60 Decreased By ▼ -0.34 (-1.48%)
TELE 7.15 Increased By ▲ 0.08 (1.13%)
TPLP 13.36 Increased By ▲ 0.25 (1.91%)
TRG 53.41 Decreased By ▼ -0.62 (-1.15%)
UNITY 8.05 Increased By ▲ 0.15 (1.9%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.08 (8.51%)
دنیا

امریکا کا ایران کی زمینی سرحدوں پر بھی پابندیاں لگانے کا منصوبہ

  • جنگ کے ابتدائی مرحلے میں امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر دی، جس کے ردِعمل میں تہران نے آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت محدود کرنے کی کوشش کی تھی
شائع اپ ڈیٹ

امریکی فوج نے ایران کے زمینی راستوں کی نگرانی اور اسلحے و غیرقانونی سامان کی ترسیل روکنے کے لیے 20 رکنی ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام ایران کے خلاف جاری امریکی بحری ناکہ بندی کو مزید وسعت دینے کی کوشش ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ بریڈ کوپر کے مطابق فلوریڈا میں قائم یہ ٹاسک فورس فوجی اور سویلین اہلکاروں پر مشتمل ہوگی، جو مختلف امریکی اداروں کے ساتھ مل کر ایران کی زمینی سرحدوں اور بحیرہ کیسپین کے راستے جدید ہتھیاروں، دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجی، پابندیوں کے شکار مواد اور غیرقانونی مالی ذرائع کی نقل و حرکت روکنے کے اقدامات کرے گی۔

امریکا کا دعویٰ ہے کہ اس اقدام سے ایران کی دہشت گردی کی مالی معاونت، اسلحہ ساز فیکٹریوں کی بحالی اور فوجی صلاحیتوں میں اضافے کی کوششوں کو محدود کیا جا سکے گا۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان آٹھ ماہ سے جاری جنگ کے دوران واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے، جبکہ تہران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محدود کر دی ہے۔ اس اہم گزرگاہ سے معمول کے حالات میں دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی تجارت ہوتی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی تقریباً 25 ارب ڈالر مالیت کی خام تیل برآمدات رک چکی ہیں۔

Comments

200 حروف