امریکا کا ایران کی زمینی سرحدوں پر بھی پابندیاں لگانے کا منصوبہ
- جنگ کے ابتدائی مرحلے میں امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر دی، جس کے ردِعمل میں تہران نے آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت محدود کرنے کی کوشش کی تھی
امریکی فوج نے ایران کے زمینی راستوں کی نگرانی اور اسلحے و غیرقانونی سامان کی ترسیل روکنے کے لیے 20 رکنی ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام ایران کے خلاف جاری امریکی بحری ناکہ بندی کو مزید وسعت دینے کی کوشش ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ بریڈ کوپر کے مطابق فلوریڈا میں قائم یہ ٹاسک فورس فوجی اور سویلین اہلکاروں پر مشتمل ہوگی، جو مختلف امریکی اداروں کے ساتھ مل کر ایران کی زمینی سرحدوں اور بحیرہ کیسپین کے راستے جدید ہتھیاروں، دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجی، پابندیوں کے شکار مواد اور غیرقانونی مالی ذرائع کی نقل و حرکت روکنے کے اقدامات کرے گی۔
امریکا کا دعویٰ ہے کہ اس اقدام سے ایران کی دہشت گردی کی مالی معاونت، اسلحہ ساز فیکٹریوں کی بحالی اور فوجی صلاحیتوں میں اضافے کی کوششوں کو محدود کیا جا سکے گا۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان آٹھ ماہ سے جاری جنگ کے دوران واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے، جبکہ تہران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محدود کر دی ہے۔ اس اہم گزرگاہ سے معمول کے حالات میں دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی تجارت ہوتی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی تقریباً 25 ارب ڈالر مالیت کی خام تیل برآمدات رک چکی ہیں۔


Comments