ون چائنا پالیسی کے تحت پاکستان کی تائیوانی فضائی کمپنیوں پر فضائی حدود استعمال کرنے کی پابندی
- بلومبرگ کے مطابق تائیوانی فضائی کمپنیوں نے ہفتے کے اختتام سے پروازوں کے راستے تبدیل کرنا شروع کردیے
پاکستان نے بیجنگ کی ون چائنا پالیسی کی حمایت میں تائیوان کی فضائی کمپنیوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کردی ہیں۔
بلومبرگ نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے جو کسی ملک نے کیا ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے بلومبرگ نیوز کو بتایا کہ پاکستان کا شعبہ ہوا بازی ون چائنا پالیسی پر عمل کرتا ہے اور صرف مین لینڈ چین کو اجازت حاصل ہے۔ ہم نے صرف چینی فضائی کمپنیوں کو پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تائیوانی فضائی کمپنیوں نے ہفتے کے اختتام سے اپنی پروازوں کے راستے تبدیل کرنا شروع کردیے۔
بلومبرگ نے فلائٹ ریڈار 24 کے پروازوں سے متعلق ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ چائنا ایئرلائنز لمیٹڈ اور ایوا ایئرویز کارپوریشن نے 25 اکتوبر کی صبح سے پاکستان کی فضائی حدود استعمال نہیں کیں۔ اتوار سے ایشیا اور یورپ کے درمیان ان کمپنیوں کی کم از کم 12 پروازیں روس کے اوپر سے گزری ہیں۔
تائیوان کی سول ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے پروازوں کے راستے تبدیل کرنے پر تبصرہ نہیں کیا، تاہم کہا کہ اس نے کبھی فضائی کمپنیوں کو روس کی فضائی حدود استعمال کرنے سے منع نہیں کیا۔
پاکستان مسلسل ’’ون چائنا‘‘ پالیسی پر عمل پیرا ہے اور تائیوان کو ’’عوامی جمہوریہ چین کا ناقابلِ تنسیخ حصہ‘‘ قرار دیتا ہے۔ یہ مؤقف پاکستان کی خارجہ پالیسی اور چین کے ساتھ اس کی ’’ہر موسم میں قائم رہنے والی اسٹریٹجک تعاون کی شراکت داری‘‘ کا بنیادی جزو ہے۔
جنوبی ایشیائی ملک پاکستان نے ’’تائیوان کی آزادی‘‘ کی ہر شکل کو مسترد کیا ہے اور ’’دو چین‘‘ یا ’’ایک چین، ایک تائیوان‘‘ کے تصور کو فروغ دینے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کی ہے۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سمیت پاکستانی رہنما اس مؤقف کا اعادہ کرچکے ہیں۔
پاکستان نے آبنائے تائیوان کی بدلتی ہوئی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے علاقائی امن و استحکام پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب دنیا کو مختلف بحرانوں کا سامنا ہے۔
پاکستان نے تائیوان کو بین الاقوامی اداروں سے باہر رکھنے کے معاملے پر بھی چین کے مؤقف کی فعال حمایت کی ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان نے تائیوان کو عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی سالانہ اسمبلی میں مدعو کرنے کی تجویز کی مخالفت کی تھی۔


Comments